بزنس مین پینل نے پٹرولیم قیمتوں کا یومیہ تعین عوام دشمن اقدام قرار دے دیا
- حکومت غیر معمولی تیزی صرف اس وقت دکھاتی جب عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین اور کاروباری طبقے پر منتقل کرنا ہو، میاں انجم نثار
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے پیٹرولیم قیمتوں کے یومیہ تعین کے طریقہ کار متعارف کرانے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صنعت دشمن، کاروبار دشمن اور عوام دشمن اقدام قرار دیا جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گا، کاروباری اعتماد کو مجروح کرے گا اور پوری معیشت میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کرے گا۔
حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے بزنس مین پینل کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت غیر معمولی تیزی صرف اس وقت دکھاتی جب عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین اور کاروباری طبقے پر منتقل کرنا ہو۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تو حکومت عوام کوخاطر خواہ ریلیف دینے میں ناکام رہی۔ اس کے برعکس اس نے اضافی لیویز، کلائمیٹ سپورٹ چارجز اور مختلف ٹیکس عائد کرنا جاری رکھا جس کے باعث صارفین اور صنعت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ حکومت نے مالیاتی مجبوریوں اور آئی ایم ایف کے وعدوں کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف شکلوں میں نئے ٹیکس اور ڈیوٹیز متعارف کرا کے پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں برقرار رکھنے کا بار بار جواز پیش کیا، تاہم جوں ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں، حکام نے بغیر کسی ایک دن کا وقفہ دیے یا ٹیکسوں یا پیٹرولیم لیویز میں کمی کے ذریعے اضافے کے کسی بھی حصے کو خود برداشت کیے بغیر، پورا بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے غیر معمولی تیزی سے عمل کیا۔
میاں انجم نثار نے کہا کہ یہ طرزِ عمل واضح طور پر حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جہاں عوامی فلاح، صنعتی مسابقت اور معاشی استحکام پر محصولات کی وصولی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو حکومت نے اسی نوعیت کی فوری کارروائی کیوں نہیں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے بارہا مطالبات کے باوجود صارفین اور کاروباری طبقے کو بروقت ریلیف سے محروم رکھا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments