BR100 Increased By (0.47%)
BR30 Increased By (0.09%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.34%)
BAFL 56.95 Decreased By ▼ -0.25 (-0.44%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.26 (0.97%)
BOP 34.03 Increased By ▲ 0.34 (1.01%)
CNERGY 10.20 Decreased By ▼ -0.41 (-3.86%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 207.39 Decreased By ▼ -2.51 (-1.2%)
FABL 100.68 Increased By ▲ 1.73 (1.75%)
FCCL 54.80 Increased By ▲ 1.06 (1.97%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.19 (1.15%)
GGL 24.81 Increased By ▲ 0.99 (4.16%)
HBL 302.80 Increased By ▲ 0.38 (0.13%)
HUBC 220.00 Increased By ▲ 1.06 (0.48%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.40 Increased By ▲ 0.12 (1.65%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 95.15 Decreased By ▼ -1.21 (-1.26%)
OGDC 317.45 Decreased By ▼ -0.77 (-0.24%)
PAEL 42.70 Increased By ▲ 0.93 (2.23%)
PIBTL 16.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 298.00 Increased By ▲ 1.38 (0.47%)
PPL 219.63 Decreased By ▼ -0.54 (-0.25%)
PRL 48.60 Decreased By ▼ -0.45 (-0.92%)
SNGP 105.80 Decreased By ▼ -0.33 (-0.31%)
SSGC 28.32 Decreased By ▼ -0.82 (-2.81%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.03 (0.34%)
TPLP 12.88 Increased By ▲ 0.37 (2.96%)
TRG 59.80 Decreased By ▼ -0.42 (-0.7%)
UNITY 10.50 Increased By ▲ 0.48 (4.79%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
مارکٹس

بزنس مین پینل نے پٹرولیم قیمتوں کا یومیہ تعین عوام دشمن اقدام قرار دے دیا

  • حکومت غیر معمولی تیزی صرف اس وقت دکھاتی جب عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین اور کاروباری طبقے پر منتقل کرنا ہو، میاں انجم نثار
شائع اپ ڈیٹ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے پیٹرولیم قیمتوں کے یومیہ تعین کے طریقہ کار متعارف کرانے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صنعت دشمن، کاروبار دشمن اور عوام دشمن اقدام قرار دیا جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گا، کاروباری اعتماد کو مجروح کرے گا اور پوری معیشت میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کرے گا۔

حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے بزنس مین پینل کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت غیر معمولی تیزی صرف اس وقت دکھاتی جب عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین اور کاروباری طبقے پر منتقل کرنا ہو۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تو حکومت عوام کوخاطر خواہ ریلیف دینے میں ناکام رہی۔ اس کے برعکس اس نے اضافی لیویز، کلائمیٹ سپورٹ چارجز اور مختلف ٹیکس عائد کرنا جاری رکھا جس کے باعث صارفین اور صنعت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ حکومت نے مالیاتی مجبوریوں اور آئی ایم ایف کے وعدوں کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف شکلوں میں نئے ٹیکس اور ڈیوٹیز متعارف کرا کے پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں برقرار رکھنے کا بار بار جواز پیش کیا، تاہم جوں ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں، حکام نے بغیر کسی ایک دن کا وقفہ دیے یا ٹیکسوں یا پیٹرولیم لیویز میں کمی کے ذریعے اضافے کے کسی بھی حصے کو خود برداشت کیے بغیر، پورا بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے غیر معمولی تیزی سے عمل کیا۔

میاں انجم نثار نے کہا کہ یہ طرزِ عمل واضح طور پر حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جہاں عوامی فلاح، صنعتی مسابقت اور معاشی استحکام پر محصولات کی وصولی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو حکومت نے اسی نوعیت کی فوری کارروائی کیوں نہیں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے بارہا مطالبات کے باوجود صارفین اور کاروباری طبقے کو بروقت ریلیف سے محروم رکھا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف