علاقائی کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی خطرات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے تیاریوں کی ہدایت کردی
- اجلاس میں علاقائی بحران سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو علاقائی صورتحال میں غیر یقینی کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہر ممکن تیاری رکھنے کی ہدایت کی، جبکہ انہوں نے پاکستان کی معیشت پر علاقائی کشیدگی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی۔ یہ بات وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں غیر یقینی کی صورتحال بدستور برقرار ہے، اس لیے متعلقہ ادارے ایک جامع ہنگامی منصوبہ تیار کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا، ”اللہ کے فضل سے قومی معیشت اس وقت مستحکم ہے، تاہم کسی بھی ابھرتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔“
وزیراعظم نے کفایت شعاری اور توانائی بچانے کی سابقہ مہمات میں عوامی تعاون کو سراہا، خصوصاً پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے استعمال میں بچت کی کوششوں کو۔
انہوں نے کہا، ”حکومت کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی۔“
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت نے ہدفی سبسڈی کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات سے عام شہریوں، خصوصاً موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو محفوظ رکھا۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکام کو پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل میں بھی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک اور اویس لغاری، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، ایس بی پی کے گورنر جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
























Comments