سابق قطری امیر کے انتقال پر تعزیت کے لیے وزیر اعظم دوحہ پہنچ گئے
- نواز شریف، اسحاق ڈار اور عطا اللہ تارڑ بھی شہباز شریف کے ہمراہ ہیں، وزیر اعظم امیرِ قطر شیخ تمیم سے ملاقات کریں گے
وزیر اعظم محمد شہباز شریف پیر کو ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے ہیں۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
دوحہ ایئرپورٹ پہنچنے پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

وزیراعظم لوسیل پیلس جائیں گے جہاں وہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کریں گے اور امیر قطر، قطری شاہی خاندان اور عوام سے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔
علاوہ ازیں ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ حمد کے انتقال پر پیر کو پاکستان میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ حکومت پاکستان اور اس کے عوام کی جانب سے قطر کے شاہی خاندان، حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعزیت کے طور پر کیا گیا ہے۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے انتقال پر پیر 13 جولائی 2026 کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔ ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
قطر کے سابق امیر، جنہوں نے ملک کو ایک علاقائی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اتوار کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ امیری دیوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اتوار کی صبح والدِ امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح پر رحم فرمائے اور وطن و قوم کے لیے ان کی خدمات کا بہترین اجر عطا کرے۔
شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکومت کی اور پھر اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے قطر کا عالمی پروفائل بلند کیا۔امریکہ کا اتحادی یہ ملک 25 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ چھوٹا ضرور ہے لیکن یہ دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا سب سے بڑا برآمد کنندہ، عالمی سرمایہ کاری کا مرکز اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور بین الاقوامی میڈیا کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔
شیخ حمد نے جون 2013 میں اقتدار اپنے بیٹے (جو اس وقت ولی عہد تھے) کے سپرد کر دیا تھا، جو کہ خلیجی عرب ممالک کے موروثی حکمرانوں میں اقتدار سے دستبرداری کی ایک نادر مثال تھی، تاکہ پرامن طور پر جانشینی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خود 1995 میں ایک بغیر خون خرابے کی بغاوت (بلڈ لیس کو) کے ذریعے اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا۔























Comments