ایران کے شمال مشرقی علاقے میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ، 2 اہلکار ہلاک
- مشہد شہر میں گشت کے دوران دونوں اہلکار مارے گئے
ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں ہونے والے ایک حملے میں ایرانی سکیورٹی فورس کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی ہے۔
تسنیم کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد بسیج فورس کے ارکان تھے، جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک نیم فوجی دستہ ہے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کا نظریاتی و عسکری بازو سمجھا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے نے نہ تو حملے کی تاریخ بتائی اور نہ ہی حملہ آوروں کی شناخت ظاہر کی، تاہم کہا کہ ’’اس کارروائی کے ذمہ دار عناصر کو سزا دی جائے گی۔‘‘
تسنیم کے مطابق دونوں اہلکار امام رضاؑ کے روضۂ مبارک سے تقریباً 15 کلومیٹر دور مشہد شہر میں گشت پر مامور تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ امام رضاؑ کا روضہ ایران میں شیعہ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے، جہاں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو جمعہ کی صبح سپردِ خاک کیا گیا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان اس ہفتے ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر شدید حملے کیے۔ یہ حملے گزشتہ ماہ جنگ بندی کو باضابطہ شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے اب تک کے شدید ترین حملے قرار دیے جا رہے ہیں۔






















Comments