BR100 Increased By (1.82%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (2.08%)
KSE30 Increased By (2.29%)
BAFL 61.65 Increased By ▲ 4.98 (8.79%)
BIPL 27.40 Increased By ▲ 0.39 (1.44%)
BOP 36.36 Increased By ▲ 1.27 (3.62%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.02 Increased By ▲ 0.35 (1.78%)
DGKC 227.40 Increased By ▲ 4.13 (1.85%)
FABL 101.11 Increased By ▲ 1.87 (1.88%)
FCCL 59.30 Increased By ▲ 1.75 (3.04%)
FFL 17.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
GGL 24.20 Increased By ▲ 0.83 (3.55%)
HBL 306.56 Increased By ▲ 14.35 (4.91%)
HUBC 233.30 Decreased By ▼ -0.15 (-0.06%)
HUMNL 11.50 Increased By ▲ 0.33 (2.95%)
KEL 8.33 Decreased By ▼ -0.21 (-2.46%)
LOTCHEM 28.15 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 107.75 Increased By ▲ 0.84 (0.79%)
OGDC 334.94 Increased By ▲ 0.07 (0.02%)
PAEL 45.38 Decreased By ▼ -0.07 (-0.15%)
PIBTL 18.88 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
PIOC 281.39 Decreased By ▼ -1.98 (-0.7%)
PPL 244.00 Increased By ▲ 1.38 (0.57%)
PRL 36.36 Increased By ▲ 0.69 (1.93%)
SNGP 119.85 Decreased By ▼ -1.08 (-0.89%)
SSGC 31.91 Decreased By ▼ -0.17 (-0.53%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.11 (1.24%)
TPLP 10.62 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
TRG 64.41 Increased By ▲ 0.74 (1.16%)
UNITY 11.02 Increased By ▲ 0.20 (1.85%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.05 (4%)
کاروبار اور معیشت

سندھ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کوریج میں 1,374 فیصد اضافہ

  • آئندہ مرحلہ وار صوبے کی تمام 26 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں کو اس انشورنس نظام کے تحت لایا جائے گا، ایس ای سی پی
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 02:06pm

پاکستان میں سڑک حادثات کے متاثرین کو مالی تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)اور حکومتِ سندھ کی مشترکہ کوششوں سےصوبےمیں تمام رجسٹرڈ موٹر گاڑیوں کے لیے لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ پر عملدرآمد تیزی سے جاری ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام کے ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں اور صرف تین ماہ کے دوران تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پالیسیوں کی تعداد میں 1,374 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں تین ماہ قبل تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کی صرف 11 ہزار200 پالیسیاں فعال تھیں، تاہم حکومتی اقدامات اور لازمی انشورنس کے نفاذ کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 65 ہزار 64 ہو گئی ہے۔

ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلہ وار صوبے کی تمام 26 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں کو اس انشورنس نظام کے تحت لایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کمیشن کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد ٹریفک حادثات متاثرین اور انکے اہل خانہ کو فوری مالی امداد فراہم کرنا ہے جبکہ نو فالٹ کمپنسیشن کے نظام کے تحت حادثے کی ذمہ داری کے تعین سے قبل بھی متاثرہ افراد یا ان کے ورثا کو معاوضہ دیا جا سکے گا۔

اس پالیسی کے تحت حادثے میں وفات کی صورت میں 7 لاکھ روپے جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک فوری مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا مل سکے گا۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں ہر سال 9 ہزار سے 10 ہزار رپورٹ شدہ ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں، جن میں متعدد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں، ایسے میں لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس نہ صرف متاثرین کو بروقت مالی مدد فراہم کرے گی بلکہ ٹریفک حادثات کے بعد قانونی اور مالی پیچیدگیوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی ۔

Comments

200 حروف