جاپان کا بھارت کے ساتھ تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
- مودی اور تاکائیچی بھارت اور جاپان کی کاروباری شخصیات اور صنعت کاروں کے ساتھ ہونے والی کاروباری تقریبات میں بھی شریک ہوں گے
جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی بدھ سے بھارت کا دورہ کریں گی، جہاں وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گی۔ ٹوکیو کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں دونوں ایشیائی شراکت دار ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یہ دورہ مودی کے گزشتہ سال کے دورۂ ٹوکیو کے بعد ہو رہا ہے، جس کے دوران جاپان نے آئندہ دس برس میں بھارت میں اپنی سرمایہ کاری دگنی سے بھی زیادہ بڑھا کر 61 ارب ڈالر سے تجاوز تک لے جانے کا وعدہ کیا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کا عکاس ہے۔
دونوں رہنما بھارت۔جاپان 16ویں سالانہ سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ اس انتظام کے تحت دونوں ممالک کے وزرائے اعظم باری باری ایک دوسرے کے ملک میں سالانہ ملاقات کرتے ہیں۔ جاپان کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اجلاس میں تجارت، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
بھارتی ذرائع کے مطابق مودی اور سانائے تاکائیچی دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کاروباری تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ بھارت میں اس وقت جاپان کی تقریباً 1,400 کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے لگ بھگ نصف کا تعلق مینوفیکچرنگ کے شعبے سے ہے۔
بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 27.5 ارب ڈالر رہا، جبکہ اپریل سے دسمبر 2025 کے درمیان جاپان کی جانب سے بھارت میں 3.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
توقع ہے کہ دونوں رہنما سلامتی کے شعبے میں تعاون اور آزاد، کھلے اور جامع ہند۔بحرالکاہل (انڈوپیسفک) کے تصور کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
بھارت اور جاپان، امریکا اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ (Quad) گروپ کے رکن ہیں، اور گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک نے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون میں مسلسل توسیع کی ہے۔
جاپان بھارت کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہوتا ہے اور ممبئی اور احمد آباد کے درمیان تیز رفتار ریل منصوبے سمیت کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ جاپانی کمپنیوں نے بھارتی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری بھی بڑھائی ہے، جن میں حال ہی میں یس بینک (Yes Bank) کے 20 فیصد حصص 1.6 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
























Comments