ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن اسکیم میں بہتری کے لیے مثبت تبدیلیاں زیرِ غور
- برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، چیف کلکٹر کسٹمز
چیف کلکٹر کسٹمز (ایکسپورٹس) محسن رفیق نے کہا ہے کہ کسٹمز حکام برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو بہتر بنانے کے لیے مثبت تبدیلیاں زیرِ غور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی کنسائنمنٹس کی فوری کلیئرنس، ڈیوٹی ڈرا بیک کے دعووں کی بروقت ادائیگی اور ایکسپورٹ سیکٹر کو مزید آسانیاں فراہم کرنے کے لیے ای ایف ایس میں حائل تمام رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
لاہور چیمبر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ای ایف ایس کا جائزہ لینے اور اس کا مستقبل کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کرے گی۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے ای ایف ایس کے تحت درآمد شدہ خام مال کے استعمال کی مدت 9 سے بڑھا کر 18 ماہ کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا، لیکن کہا کہ کاروباری برادری کو اب بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیکسٹائل شعبے میں مختلف بندرگاہوں پر ایک جیسی مصنوعات کے لیے ایچ ایس کوڈز کی مختلف تشریحات اور تشخیصات کے باعث صنعت کاروں کو غیر ضروری مشکلات، تاخیر اور ڈیمریج کے اخراجات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مخصوص شعبوں کے لیے ایچ ایس کوڈز کی یکساں تشریح اور تشخیص کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر لاہور چیمبر نے مزید کہا کہ لیٹر آف کریڈٹ کی منظوری اور آئی او سی او کی جانب سے پروسیسنگ میں دو ماہ تک کا وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے اور نئے ایچ ایس کوڈز شامل کرنے کے طریقہ کار پیچیدہ اور غیر واضح ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پورا نظام ’سنگل ونڈو آپریشن‘ پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ صنعت کاروں کو متعدد محکموں اور منظوری کے عمل سے نہ گزرنا پڑے۔



















Comments