صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان کے درمیان 18 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کے بعد وہ کئی ہفتوں پر مشتمل شدید سفارتی کوششیں جو متعدد مواقع پر ناکامی کے قریب پہنچ گئی تھیں، بالآخر کامیابی سے مکمل ہو گئیں۔
یہ معاہدہ دنیا کے لیے ایک خوش آئند ریلیف فراہم کرتا ہے، جو کئی مہینوں کی ان کشیدہ حالات اور ہنگامہ آرائی کے بعد سامنے آیا جنہوں نے نہ صرف ایران بلکہ وسیع تر خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔
پاکستان کا کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے میں نہایت اہم ثابت ہوا ہے اور اگرچہ یہ مفاہمتی یادداشت ابھی ابتدائی معاہدہ ہے تاہم یہ ایک 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک کی بنیاد فراہم کرتی ہے جس کا مقصد ان پیچیدہ اور گہرائی سے جڑے تنازعات کو حل کرنا ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو متاثر کرتے رہے ہیں اور خطے کی سلامتی کو غیر مستحکم کرتے آئے ہیں۔
اگرچہ کافی چیلنجز اب بھی موجود ہیں لیکن یہ مفاہمتی یادداشت محاذ آرائی سے دوری اور بات چیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
جنگوں کا خاتمہ ہمیشہ ایک راحت کے لمحے کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ اس تنازع نے بھاری قیمت چکائی جس کے نتیجے میں ایران میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اس کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا اور ایک ایسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی جو سرحدوں کے پار پھیل گئی جبکہ خلیجی ریاستوں نے بھی اس لڑائی کے سنگین اثرات کو سختی سے محسوس کیا۔
عالمی معیشت پر اس کا اثر بھی اتنا ہی شدید تھا جب ایران نے اپنی جوابی حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سمندری تجارت کے ایک اہم ترین گزرگاہ ہونے کے ناطے اس کی بندش نے توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی، سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا اور ایک وسیع تر معاشی بحران کے خدشات کو بڑھا دیا۔ درحقیقت اس ناکہ بندی نے ہی واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد آبی گزرگاہ میں بحری نقل و حمل کو بحال کرنے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں جس سے توانائی منڈیوں اور مجموعی عالمی معیشت پر دباؤ کم ہوا ہے اگرچہ جنگ سے پہلے والی تجارتی سطح پر واپسی میں وقت لگے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کا جائزہ اس تاثر کو پوری طرح زائل نہیں کرتا کہ ایران شاید وہ کئی اہم رعایتیں کبھی حاصل نہ کر پاتا جو اب میز پر موجود ہیں، اگر صدر ٹرمپ اسرائیل کی خواہش پر شروع کی گئی ایک غیر قانونی جنگ کا راستہ اختیار نہ کرتے۔
چاہے وہ ایرانی اثاثوں کی بحالی ہو، اس پر عائد طویل المدتی پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی برآمدات کی صلاحیت کی بحالی یا تہران کو بین الاقوامی بینکاری نظام سے خارج کرنے والی پابندیوں کا خاتمہ، یہ معاہدہ ممکنہ طور پر ان معاشی پابندیوں میں وسیع اور بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جن کا ایران کو طویل عرصے سے سامنا رہا ہے۔
اس کے بدلے ایران نے اعادہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی تیار کرے گا اور وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت ٹھکانے لگانے پر بھی رضامند ہوگیا ہے۔
تاہم یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان کسی حتمی اور زیادہ جامع معاہدے تک پہنچنے سے پہلے کافی بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
60 دن پر محیط مذاکراتی عمل کی مدت بہت مختصر ثابت ہوسکتی ہے، اس کی وجہ درپیش مسائل کی پیچیدگی اور بد اعتمادی کا وہ گہرا فقدان ہے جو امریکہ اور ایران کے تعلقات کی مستقل پہچان رہا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس سے دوبارہ دشمنی شروع ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ان غیر یقینی صورتحال میں اضافہ اسرائیل کا تخریب کارانہ کردار ہے جس نے اس معاہدے کی مخالفت میں کسی ابہام کے بغیر سخت موقف اختیار کیا اور لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو کم کرنے سے انکار کر دیا ہے حالانکہ مفاہمتی یادداشت میں ان کارروائیوں کو روکنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔
درحقیقت، سوئٹزرلینڈ میں 60 روزہ مذاکرات کے ابتدائی دور کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد مارے گئے جس کے باعث طے شدہ مذاکرات کو ملتوی کرنا پڑا اور یہ واقعہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ پائیدار امن کی کسی بھی کوشش کے لیے راستہ کتنا مشکل اور پیچیدہ ہے۔
بالآخر دونوں فریقین کی جانب سے گہری بدگمانیوں پر قابو پانے کے علاوہ، امریکہ کو اسرائیل کے تباہ کن عزائم پر قابو پانا ہوگا، تب ہی یہ نازک پیشرفت ایک پائیدار امن میں تبدیل ہوسکے گی۔






















Comments