امریکہ ایران معاہدے پر شکوک کے باعث تیل ایک فیصد مہنگا، آئی ای اے کی سپلائی میں اضافے کی وارننگ
- مشرقی امریکی وقت کے مطابق صبح 11:34 بجے تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز 89 سینٹ، یعنی 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا نیا جنگ بندی معاہدہ ابھی حتمی نہیں اور اگر وہ مطمئن نہ ہوئے تو ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، بدھ کو تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، آئندہ برس عالمی منڈی میں رسد کی بہتات کے خدشات نے قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 89 سینٹ، یا تقریباً 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ مشرقی امریکی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 34 منٹ (1534 جی ایم ٹی) تک 79.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 91 سینٹ، یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 76.96 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ سیشن کے دوران دونوں بینچ مارک معاہدے مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح تک بھی گر گئے تھے۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی نہیں ہے اور اگر انہیں یہ قابلِ قبول نہ لگی یا ایران نے ان کے بقول ”مناسب رویہ“ اختیار نہ کیا تو وہ دوبارہ بمباری کی مہم شروع کر سکتے ہیں۔
سٹی انڈیکس اور فاریکس ڈاٹ کام کے مارکیٹ تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے کہا کہ ”امریکی صورتحال کے حوالے سے اب بھی کچھ غیریقینی موجود ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد ان سطحوں سے تیل کی قیمتوں میں واپسی فطری دکھائی دیتی ہے۔“
بدھ کے روز لبنان کے جنوبی علاقوں کے متعدد قصبوں میں اسرائیل نے تازہ فضائی حملے اور گولہ باری کی، جبکہ لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج پر ڈرونز کے ذریعے دو حملے کیے۔
اتوار کو دستخط ہونے والی یادداشتِ مفاہمت کے تحت اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لبنان میں دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب رسد کے محاذ پر، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے بدھ کو بتایا کہ طلب میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر مسلسل دسویں ہفتے بھی کم ہوئے، جس کے نتیجے میں مجموعی ذخائر 1985 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئے، جبکہ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیاں بدستور دباؤ کا شکار ہیں۔
لیپو آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لیپو نے کہا کہ ”امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک اور تجارتی ذخائر استعمال کر رہے ہیں۔“
تاہم، عالمی تیل منڈی پر رسد کی بہتات کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 2027 کے حوالے سے اپنی پہلی پیش گوئی میں کہا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی کو نمایاں اضافی رسد کا سامنا ہوگا، کیونکہ عالمی سپلائی میں یومیہ 80 لاکھ بیرل اضافہ متوقع ہے، جبکہ طلب میں صرف 20 لاکھ بیرل یومیہ اضافے کا امکان ہے۔
قلیل مدت میں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران۔امریکہ معاہدہ ختم ہوتے ہوئے ذخائر کو دوبارہ بھرنے یا نئے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
ایمپائر ایف ایکس کے ریسرچ تجزیہ کار کرسپس نیاگا کے مطابق ”منڈیاں شاید اضافی رسد کی شدت کا درست اندازہ نہیں لگا رہیں، جو جلد ہی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔“
اس کے باوجود صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے کی پیداوار اور ریفائننگ کی سطح پر مکمل واپسی میں کئی ہفتے، کئی ماہ، بلکہ بعض صورتوں میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔


















Comments