اسپیس ایکس کا تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او، شیئر کی قیمت 135 ڈالر مقرر
- آئی پی او کے ذریعے 555.56 ملین شیئرز کی فروخت سے ریکارڈ 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے گئے
اسپیس ایکس نے جمعرات کو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی او کے لیے شیئر کی قیمت 135 ڈالر رکھی جس کے بعد ایلون مسک کی راکٹ اور خلائی جہاز بنانے والی کمپنی دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شامل ہوگئی۔
آئی پی او کے ذریعے 555.56 ملین شیئرز کی فروخت سے ریکارڈ 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے گئے جس کے نتیجے میں خلائی، سیٹلائٹ اور اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی مالیت 1.77 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی جو کسی بھی آئی پی او کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔اسپیس ایکس جب جمعہ کو نیسڈیک میں اپنی ٹریڈنگ شروع کرے گی تو وہ امریکی لسٹڈ کمپنیوں میں ساتویں نمبر پر ہوگی، تاہم گزشتہ سال کمپنی کو نقصان ہوا تھا اور دیگر بڑی کمپنیاں آمدنی کے لحاظ سے اس سے کئی گنا آگے ہیں۔
جمعرات کی یہ قیمت بندی کئی ماہ پر محیط ایک کوشش کا نتیجہ ہے جس نے مسک کے اب تک کے سب سے بڑے اور پرجوش منصوبے کو عملی شکل دی، اگرچہ اس دوران انہوں نے کئی روایتی مالی اصولوں کو بھی الٹ دیا اور کچھ ماہرین نے اس بلند ترین ویلیوایشن کی جوازیت پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
اس قیمت کے تعین کے ساتھ جمعہ کو جب اسپیس ایکس کے شیئرز کی ٹریڈنگ شروع ہوگی تو اس کی مالیت جے پی مورگن چیز ، برکشائر ہیتھ وےاور ایلی للی جیسی متنوع کمپنیوں کے ساتھ ساتھ میٹا پلیٹ فارمز اور خود مسک کی اپنی کمپنی ٹیسلا جیسی ٹیک کمپنیوں سے بھی زیادہ ہوگی۔
اسپیس ایکس سے قبل سب سے بڑا آئی پی او دسمبر 2019 میں سعودی آرامکو کا تھا، جس نے 25.6 ارب ڈالر اکٹھے کیے اور کمپنی کی ویلیوایشن 1.71 کھرب ڈالر رہی۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے آرامکو نے 33.2 ارب ڈالر جمع کیے تھے جبکہ اس کی مجموعی مالیت 2.21 کھرب ڈالر تھی۔
کمپنی کی 1.77 کھرب ڈالر کی ویلیوایشن جو 13.08 ارب جاری شدہ شیئرز کی بنیاد پر ہے مزید بڑھ بھی سکتی ہے اگر انڈر رائٹرز اضافی شیئرز فروخت کرنے کا حق استعمال کریں، جو فیصلہ عام طور پر آئی پی او کے 30 دن کے اندر کیا جاتا ہے۔ رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسپیس ایکس 1.75 کھرب ڈالر کی ویلیوایشن حاصل کرنے کا ہدف رکھتی تھی۔
اسپیس ایکس نے 30 فیصد شیئرز ریٹیل بائرز کے لیے مختص کیے جو کہ ایک غیر معمولی طور پر بڑی تعداد ہے۔ کمپنی نے جمعرات کو پیشکش کی قیمت کا فیصلہ اس روڈ شو سے پہلے ہی کر لیا تھا جس کا استعمال بینکرز اور سرمایہ کار طویل عرصے سے آئی پی او کی شرائط طے کرنے کے لیے کرتے آئے ہیں۔
مسک نے ملا جلا ردعمل ملنے کے باوجود، کمپنی کو جلد از جلد اسٹاک انڈیکس میں شامل کروانے پر بھی زور دیا تاکہ اسپیس ایکس کے حصص خریدنے والوں کا دائرہ کار وسیع ہو سکے۔ انہوں نے کمپنی کے گورننس اسٹرکچر کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ بانی کا مضبوط کنٹرول برقرار رہے۔ اس آئی پی او کے بعد بھی ایلون مسک اسپیس ایکس کے 82 فیصد حصص کے مالک رہیں گے۔
امریکی آئی پی او مارکیٹ اس سال پہلے ہونے والی اتار چڑھاؤ کے بعد نمایاں طور پر بحالی کیلئے تیار ہے۔ گولڈمین ساکس نے پیشگوئی کی ہے کہ 2026 میں آئی پی اوز سے حاصل ہونے والی آمدن ریکارڈ 160 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جو موجودہ سطح سے چار گنا زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے پائپ لائن کی وجہ سے متوقع ہے جس میں نہ صرف اسپیس ایکس بلکہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اوپن اے آئی اور اینتھروپک بھی شامل ہیں۔
























Comments