اسٹیٹ بینک نے اپنا پہلا ریسرچ ایجنڈا جاری کردیا
- یہ ریسرچ ایجنڈا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور مقامی معاشی منظرنامے میں اسٹیٹ بینک کی تحقیقی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو سال 2026 سے 2029 کے لیے اپنا پہلا ریسرچ ایجنڈا جاری کردیا۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ ریسرچ ایجنڈا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور مقامی معاشی منظرنامے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحقیقی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے جہاں تیز رفتار تکنیکی ترقی، بار بار آنے والے سپلائی شاکس، موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل ساختی چیلنجز نمایاں ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قانونی مقاصد اور ایس بی پی وژن 2028 کے مطابق یہ ایجنڈا مرکزی بینک کی پالیسی سازی اور ریگولیٹری ڈیزائن کی تجزیاتی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس ریسرچ ایجنڈے کو باقاعدہ طور پر 3 اسٹریٹجک (حکمتِ عملی پر مبنی) کلیدی موضوعات کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جو کہ یہ ہیں:
- انفلیشن ڈائنامکس اور مانیٹری پالیسی
- فنانشل سیکٹر ڈیپننگ، مضبوطی اور کارکردگی
- اسٹرکچرل ٹرانسفارمیشن اور اقتصادی ترقی۔
پریس ریلیز کے مطابق آئندہ 3 برسوں کے دوران یہ ایجنڈا ان وسیع موضوعات پر توجہ مرکوز کرے گا تاکہ اہم تحقیقی خلا کو پُر کیا جا سکے اور میکرو اکنامک پالیسی فیصلوں کے لیے تجزیاتی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ ریسرچ ایجنڈا ابھرتے ہوئے معاشی اور مالیاتی شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور نالج شیئرنگ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
ایجنڈے میں وضع کردہ تحقیق کے عمل کے حصے کے طور پر اسٹیٹ بینک انفرادی اور ادارہ جاتی دونوں سطح پر ماہرینِ تعلیم، پالیسی محققین، سرکاری اداروں اور دیگر بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فعال طور پر جڑنے اور تعاون کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔





















Comments