ورلڈ کپ کے لیے ٹکٹوں کی الاٹمنٹ ٹورنامنٹ سے چند دن قبل واپس لے لی گئی، ایران کا شکوہ
- ایران کی فٹبال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس نے میچوں کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا عمل پہلے ہی شروع کر دیا تھا، تاہم اب وہ شائقین کو ٹکٹ فراہم کرنے سے قاصر ہے
ایران کی فٹبال فیڈریشن (ایف ایف آئی آر آئی) نے منگل کے روز کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے آغاز سے چند روز قبل اس کی ٹکٹ الاٹمنٹ واپس لے لی گئی، جس کے باعث وہ شائقین جو پہلے ہی سفر کے منصوبے بنا چکے تھے، اپنی ٹیم کے میچز میں شرکت سے محروم ہو گئے ہیں۔
ورلڈ کپ جمعرات سے شروع ہو رہا ہے، جس میں ایران اپنے گروپ G کے پہلے دو میچ لاس اینجلس میں کھیلے گا: نیوزی لینڈ کے خلاف 15 جون اور بیلجیم کے خلاف 21 جون، اور پھر 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف میچ کھیلیں گے۔
فیڈریشن نے بیان میں کہا کہ اس نے میچوں کے لیے ٹکٹ فروخت کا عمل شروع کر دیا تھا لیکن اب وہ شائقین کو ٹکٹ فراہم نہیں کر سکتی۔
ایف ایف آئی آر آئی نے مزید کہا کہ ”یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ بہت سے ایرانی فٹبال شائقین، سرکاری اعلان شدہ عمل پر انحصار کرتے ہوئے، پہلے ہی میچز میں شرکت کے لیے ضروری منصوبے بنا چکے تھے۔“
بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ایرانی شائقین کو ان کے جائز اور سرکاری الاٹ شدہ ٹکٹوں سے محروم کرنا بین الاقوامی مقابلوں کے اصول اور شریک ممالک کے درمیان مساوات کے تصور کے منافی عمل ہے۔“
یہ پیش رفت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا فٹبال ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تنظیم میں غیر کھیلوں سے متعلق یا سیاسی عوامل مداخلت کر رہے ہیں۔
ہر شریک ملک کی فٹبال فیڈریشن کو ورلڈ کپ کے دوران اپنے ہر میچ کے لیے تقریباً 8 فیصد ٹکٹ دیے جاتے ہیں، جو وہ اپنے شائقین میں اپنے معیار کے مطابق تقسیم کرتی ہے۔
ایران کی فٹبال فیڈریشن (ایف ایف آئی آرآئی ) نے یہ واضح نہیں کیا کہ ٹکٹ روکنے کا فیصلہ کس نے کیا، تاہم اس نے عالمی فٹبال گورننگ باڈی فیفا (فیفا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر جانبداری، انصاف اور طے شدہ قواعد کے اصولوں کی پاسداری کرے اور ایسے فیصلوں کو روکے جو ٹورنامنٹ پر غیر کھیلوں سے متعلق اثر ڈالیں۔
فیفا نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی ہے، خاص طور پر فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد پیدا ہونے والے علاقائی تنازع کے تناظر میں۔
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے ٹیم کے بیس کیمپ کو ایریزونا سے میکسیکو منتقل کرنے پر بھی بات چیت کی تھی، کیونکہ ویزوں کی منظوری اور امریکہ میں ٹیم کی موجودگی سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی تھی۔
کئی ہفتوں کی غیر یقینی کے بعد، امریکہ نے گزشتہ ہفتے تمام کھلاڑیوں کو ویزے جاری کر دیے، تاہم عملے کے چند ارکان کو ویزے نہیں مل سکے۔ ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے درکار ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
فیفا نے منگل کے روز کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل مٹیاس گراف اسٹرم نے ایران فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کے ساتھ ٹیم کے ٹورنامنٹ بیس پر پہنچنے کے بعد ”مثبت بات چیت“ کی ہے۔
فیفا کے مطابق ” ٹیم کے اب میکسیکو میں موجود ہونے کے ساتھ، فیفا ایران فٹبال فیڈریشن کے ساتھ رابطہ اور تعاون جاری رکھے گا تاکہ ٹیم اور اس کے وفد کے لیے تجربہ مثبت بنایا جا سکے۔“




















Comments