BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (1.17%)
KSE100 Increased By (0.81%)
KSE30 Increased By (0.77%)
BAFL 58.34 Increased By ▲ 0.63 (1.09%)
BIPL 25.60 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 33.62 Increased By ▲ 0.37 (1.11%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.16 (1.99%)
DFML 19.57 Increased By ▲ 0.38 (1.98%)
DGKC 196.46 Increased By ▲ 2.81 (1.45%)
FABL 88.97 Increased By ▲ 0.74 (0.84%)
FCCL 52.95 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 17.79 Increased By ▲ 0.18 (1.02%)
GGL 20.77 Increased By ▲ 0.54 (2.67%)
HBL 284.75 Increased By ▲ 4.28 (1.53%)
HUBC 215.40 Increased By ▲ 3.55 (1.68%)
HUMNL 11.19 Increased By ▲ 0.07 (0.63%)
KEL 7.99 Increased By ▲ 0.10 (1.27%)
LOTCHEM 29.18 Increased By ▲ 0.32 (1.11%)
MLCF 86.00 Increased By ▲ 0.65 (0.76%)
OGDC 320.20 Increased By ▲ 2.13 (0.67%)
PAEL 40.30 Increased By ▲ 0.89 (2.26%)
PIBTL 17.39 Increased By ▲ 0.24 (1.4%)
PIOC 269.99 Increased By ▲ 2.52 (0.94%)
PPL 225.00 Increased By ▲ 0.18 (0.08%)
PRL 34.55 Increased By ▲ 0.37 (1.08%)
SNGP 100.80 Increased By ▲ 3.25 (3.33%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.52 (1.98%)
TELE 9.12 Increased By ▲ 0.74 (8.83%)
TPLP 11.31 Increased By ▲ 1.03 (10.02%)
TRG 71.48 Increased By ▲ 1.94 (2.79%)
UNITY 11.64 Increased By ▲ 0.33 (2.92%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.02 (1.57%)
رائے

پٹرولیم کا سوال: لیوی کی کہانی کا پس منظر

  • عالمی منڈیوں میں استحکام کے بعد نئے بجٹ میں پٹرولیم لیوی بڑھانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، جس سے ناقدین کے خدشات غلط ثابت ہو گئے
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 02:12pm

پاکستانی بجٹ کی دستاویز میں شاید ہی کوئی ایسی شق ہو جو پٹرولیم لیوی کی طرح گرما گرم بحث کو جنم دیتی ہو۔ اس کے اعداد و شمار کا براہِ راست اثر پیٹرول پمپ پر نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابھی وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر ختم بھی نہیں ہوتی کہ اس پر تبصروں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اس پورے معاملے کا فیصلہ ہمیشہ ایک ایسے خلا میں کیا جاتا ہے جہاں وسیع تر معاشی حقائق اور پس منظر کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

وفاقی بجٹ 27-2026 میں ایک بار پھر پٹرولیم کا سوال عوامی بحث کے مرکز میں ہوگا اور اس سوال کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے گزشتہ دو برس کا رخ کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔

آئیے اس سب سے اہم مگر دانستہ نظر انداز کی جانے والی حقیقت سے آغاز کرتے ہیں کہ 2026 کے علاقائی بحران کے عروج پر، اس کے آغاز اور اختتام کے ایک ماہ کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کو کم کرکے صفر کر دیا تھا۔ یہ ایک انتہائی سوجھ بوجھ پر مبنی پالیسی تھی، جو اس وقت اپنائی گئی جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں اور آبنائے ہرمز کے بحران نے دنیا بھر کی 20 فیصد تیل کی سپلائی کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ حکومت کے اس بروقت فیصلے نے پاکستانی عوام کو ایک ایسے خوفناک بیرونی جھٹکے سے بچا لیا، جو عالمی معیشت کو 590 ارب سے 3.5 ٹریلین ڈالر تک کا نقصان پہنچا سکتا تھا۔

عالمی منڈیوں میں استحکام کے بعد پٹرولیم لیوی میں کیا جانے والا حالیہ اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کی فنانس ٹیم نے یہ واشگاف موقف اپنایا ہے کہ آئندہ بجٹ سائیکل میں لیوی مزید بڑھانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔حکومتی ٹیم کا یہ بیانیہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ان تمام خدشات اور مفروضوں کے یکسر برعکس ہے جو ناقدین کی جانب سے اچھالے جا رہے تھے۔

اس کہانی کا دوسرا رخ وہ حصہ ہے جو شاذ و نادر ہی ٹاک شوز کے پینلز کا حصہ بنتا ہے۔ اگر حکومت نے گزشتہ دو برس کے مشکل پالیسی فیصلوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم نہ کیا ہوتا اور اگر اس نے علاقائی بحران کو کم کرنے میں تعمیری سفارتی کردار ادا نہ کیا ہوتا تو آج پاکستان میں پٹرول پمپس پر ایندھن کی قیمتیں موجودہ قیمتوں سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ یہ کوئی قیاس آرائی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت کا حساب کتاب ہے جو درآمدات پر منحصر ہے اور اسے سنبھالنے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کے بغیر عالمی توانائی کے بحران کا سامنا تھا۔

زیر بحث ادارہ جاتی اسٹرکچر اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ پٹرولیم مینجمنٹ کمیٹی جو بنیادی طور پر ایک معمول کی بین الوزارتی باڈی تھی بحران کے دوران اسے اپ گریڈ کرکے نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کا درجہ دیا گیا۔ یہ کونسل توانائی، خوراک، فنانس، تجارت اور سیکورٹی کو حکومت کے ایک واحد مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت لے آئی۔ قومی ڈیش بورڈز نے حقیقی وقت میں تیل، اجناس، غیر ملکی زر مبادلہ اور سپلائی چینز کی نگرانی کی۔ تیل کے جھٹکوں، مال برداری کی رکاوٹوں اور افراط زر کے خطرات کے لیے مسلسل منظر نامے تیار کیے گئے۔ پاکستان نے بحران کے عروج کے دوران بھی ایندھن کے چار ہفتوں کے ذخائر برقرار رکھے، جس سے ملک بھر میں بجلی کا استحکام اور لاجسٹکس کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہوئی۔

اس پورے معاملے میں تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پٹرول کی قلت اور پمپس پر لگی لمبی قطاریں جو ماضی میں ایندھن کے ہر بحران کا ٹریڈ مارک ہوا کرتی تھیں، گزشتہ دو سالوں کے دوران کہیں دیکھنے کو نہیں ملیں۔ قیمتوں میں یہ نسبتی استحکام ایک ایسے ہنگامہ خیز دور میں برقرار رکھا گیا جب عالمی منڈیاں شدید عدم استحکام کا شکار تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، جو علاقائی بحران سے پہلے تقریباً 80 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی تھی، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اچھال کے وقت تقریباً صفر کر دی گئی اور یہ حالیہ تاریخ میں پٹرولیم سیکٹر کی جانب سے عوام کو دیا جانے والا سب سے بڑا اور براہِ راست ریلیف تھا۔

پٹرولیم کے حوالے سے بجٹ کے اعداد و شمار کچھ ایسی آئینی اور معاشی مجبوریوں میں جکڑے ہوئے ہیں جن کا عوامی بحثوں میں شاذ و نادر ہی اعتراف کیا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم کا فارمولا کچھ ایسا ہے کہ ایف بی آر کا اکٹھا کردہ زیادہ تر ریونیو وفاق کے پاس بچتا ہی نہیں بلکہ وہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم لیوی ان چند گنے چنے ذرائع میں سے ایک ہے جو خالصتاً وفاقی حکومت کی جیب میں جاتا ہے اور میکرو اکنامک حالات کے مطابق لچکدار رہتا ہے۔ اس لیوی سے پیدا ہونے والی مالیاتی گنجائش ہی وفاق کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دوسرے شعبوں جیسے بجلی کے ٹیرف میں کمی، زرعی سبسڈیز اور ’بجلی سہولت پیکیج‘ کے ذریعے عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کر سکے۔

بجلی کا معاملہ بھی پٹرولیم کی کہانی سے الگ نہیں، کیونکہ کسی بھی متوسط گھرانے کے بجٹ میں یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جون 2024 سے جون 2025 کے درمیان بجلی کی قیمت میں 10.31 روپے فی یونٹ، جبکہ مارچ 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان 9.01 روپے فی یونٹ کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران عام صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ صنعتی کراس سبسڈی میں 4.04 روپے فی یونٹ کا خاتمہ اور بجلی سہولت پیکیج سمیت الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے ٹیرف کو 71 روپے سے گھٹا کر 39 روپے کرنا، حکومت کے ہدف شدہ ریلیف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پٹرولیم کے حوالے سے آنے والے بجٹ میں کسی ڈرامائی اکھڑ پچھڑ کے بجائے اب تسلسل اور پالیسیوں کے استحکام کی ضرورت ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ کی معاشی ٹیم نے موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے، جس کے بعد پٹرولیم لیوی اب کوئی سزایانہ ٹیکس نہیں بلکہ ایک نپا تلا معاشی طریقہ کار رہے گی۔علاقائی بحران سے سبق سیکھتے ہوئے ایندھن کے اسٹریٹجک ذخائر میں سرمایہ کاری کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے، تاکہ ملک کو کبھی قلیل مدتی عوامی ریلیف اور درمیانی مدت کی سپلائی سیکیورٹی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔

حقیقت یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے کو جس تحمل اور قابلیت کے ساتھ سنبھالا گیا، عوامی مباحثوں میں اس کا اعتراف شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ آج پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں کسی بھی ایسے ممکنہ منظر نامے سے کہیں کم ہیں جو معاشی استحکام، بحران ٹالنے میں سفارتی کردار اور عالمی توانائی کے جھٹکے پر ملکی اداروں کے بروقت ردعمل کے بغیر سامنے آسکتا تھا۔ نیا وفاقی بجٹ اس ریکارڈ کو گنوانے کے لیے نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جو محض سنسنی خیز سرخیوں پر اچھلنے کے بجائے اصل حقائق پر سنجیدہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف