یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کے نئے قواعد اور شرائط واضح کر دیں
- دونوں جانب سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کی اہمیت کو بھی دہرایا گیا
پاکستان اور یورپی یونین نے مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) فریم ورک کے تحت تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس، جو اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں، نے پاکستانی وفد کو یورپی یونین کے نئے جی ایس پی پلس ریگولیشن سے آگاہ کیا۔ پاکستان نے اس نئی اسکیم میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے اس سلسلے میں متعلقہ شرائط پوری کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں جانب سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کی اہمیت کو بھی دہرایا گیا، جیسا کہ بین الاقوامی معاہدوں میں درج ہے۔
یورپی سفارتکار نے پاکستان کو خطے کی ایک بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو امریکہ اور چین سے بھی بڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ان معاملات پر عملی پیش رفت دکھانی ہوگی۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور کاجا کالاس نے وزارتِ خارجہ میں پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔
دونوں فریقین نے تجارت و سرمایہ کاری، سکیورٹی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور کثیرالجہتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تفصیلی بات چیت کی۔
اجلاس میں پاکستان اور یورپی یونین نے باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس نے کہا کہ پاکستان خطے کی ایک بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ ایک اہم موقع پر ہو رہا ہے کیونکہ گزشتہ ملاقات کے بعد دنیا اور خطے میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
کاجا کالاس نے مزید کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، تاہم اس اسکیم میں شمولیت اور جاری رہنے کے لیے مخصوص شرائط پر عمل ضروری ہے۔ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا انحصار ان بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے جن پر یہ اسکیم قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو گورننس، ماحولیاتی تحفظ اور خاص طور پر لیبر اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پیش رفت دکھانا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین مختلف شعبوں جیسے موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت اور نقل و حرکت کے حوالے سے تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ عوامی روابط کو بھی شراکت داری کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس سے کئی مواقع پر مکمل جنگ کے خطرے کو روکا گیا۔
یورپی یونین نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو تسلیم کیا۔
کاجا کالاس نے کہا کہ اس وقت جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایک محدود سفارتی موقع موجود ہے، تاہم کسی بھی عارضی سمجھوتے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم امور پر وسیع مذاکرات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین طویل المدتی حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقین نے 2019 کی اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت اور سکیورٹی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی یورپی یونین کے ساتھ مجموعی تجارت کا حجم 12 ارب یورو ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جی ایس پی پلس کے تحت تجارتی تعاون ایک فائدہ مند ماڈل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments