پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی
- مالیاتی گنجائش میسر آتے ہی عوام کو معاشی ریلیف کی منتقلی کا اپنا وعدہ پورا کردیا، شہباز شریف
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کردیا۔
ملک کے پٹرولیم لیوی کے بجٹ اہداف کے دائرہ کار میں کیا جانے والا یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں اور پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کے باعث ممکن ہوا ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 22 روپے کی کمی سے پٹرول کی نئی قیمت 403.78 روپے سے کم ہوکر 381.78 روپے لٹر ہوگئی، اسی طرح 22 روپے کی کمی سے ڈیزل کی نئی قیمت 402.78 روپے سے کم ہو کر 380.78 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔
قیمتوں میں کمی کا اطلاق 30 مئی سے نافذ ہوچکا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے کردہ ایک اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مالیاتی گنجائش میسر آتے ہی عوام کو معاشی ریلیف کی منتقلی کا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔
قیمتوں میں یہ کٹوتی 29 مئی کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اشاریوں (بینچ مارکس) میں آنے والی شدید مندی کی عکاس ہے جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے تنازع میں جیوپولیٹیکل تناؤ کا کم ہونا ہے۔ عرب لائٹ کی قیمت میں 3.7 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت 5.5 فیصد گراوٹ کے ساتھ 92.76 امریکی ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ اسی دوران ملکی سطح پر تیل کی ہفتہ وار پیداوار میں بھی 1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد پیداوار 70,924 بیرل فی یوم تک پہنچ گئی۔
ملکی محاذ پر اس فیصلے کو کرنسی کے استحکام اور مضبوط مالیاتی تحفظ سے مزید مدد ملی۔ امریکہ اور ایران کے تنازع کے آغاز سے اب تک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 17.0 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں جو کہ گزشتہ 53 مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔
مارکیٹ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قیمتوں میں یہ بڑی کٹوتی مقامی مانگ کو تحفظ دینے کے لیے ایک سٹریٹجک اقدام بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رکھنے سے ملکی کھپت کم ہونے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں ایندھن کی غیر قانونی اسمگلنگ کو شہ ملنے کا خطرہ تھا۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) مئی کے لیے ہونے والے پروڈکٹ ریویو اجلاس (پی آر ایم) میں کیے گئے وعدوں کے مطابق مقامی ریفائنریز سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل خریدنے میں ناکام رہیں۔
17 مئی تک کی سپلائی کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پٹرول کی خریداری (اپ لفٹمنٹ) 357,274 میٹرک ٹن کے متناسب (پرو ریٹڈ) ڈیمانڈ ہدف کے مقابلے میں 330,181 میٹرک ٹن رہی جس سے 25,146 ٹن یعنی 8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خریداری 366,981 ٹن کے متناسب ہدف کے مقابلے میں 281,092 ٹن رہی جو 83,174 ٹن یعنی 23 فیصد خسارے (شارٹ فال) کو ظاہر کرتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی شرح 102.17 روپے سے 10.83 روپے فی لیٹر کم کرکے 91.34 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر لیوی 58 روپے سے 10.93 روپے فی لیٹر بڑھا کر 68.93 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی 20.36 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں 41.44 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 313.44 روپے سے کم ہو کر 272 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments