پاکستان کے شہری علاقوں میں ہائی بلڈ پریشر کے جدید محرکات کو سمجھنا
- زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 میں اسلام آباد میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بغیر تشخیص کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے
ہر سال 17 مئی کو دنیا بھر میں ”ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے“ منایا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری مراکز جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس بحران کی سنگینی کو محسوس کرنے کے لیے شاید ایک مخصوص دن سے بڑھ کر مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اب وہ بیماری نہیں رہی جو صرف پچاس سال کی عمر کے بعد لوگوں کو متاثر کرتی تھی؛ یہ اب پہلے سے کہیں زیادہ جلدی، تیزی سے اور خاموشی سے سامنے آ رہا ہے۔ اس کے محرکات اس بار جدید زندگی کی وہی روزمرہ کی رفتار اور معمولات ہیں جو ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار ہماری توجہ کے متقاضی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی 2023 کی ”پاکستان کے لیے ہائی بلڈ پریشر پروفائل“ کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے تقریباً 3 کروڑ 22 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 میں اسلام آباد کے ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں کی گئی ایک کمیونٹی بیسڈ کراس سیکشنل تحقیق کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بغیر تشخیص کے، خاموشی سے، لاعلمی میں اور خطرناک حد تک، ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے۔
یہ افراد نہ تو محض ادھیڑ عمر کے ہیں اور نہ ہی بزرگ؛ یہ فائنل ایئر کے طلبہ، جونیئر ایگزیکٹوز، نئے والدین اور رات گئے شہر کی ٹریفک میں سفر کرنے والے رائیڈ شیئر ڈرائیورز ہیں۔
اس رجحان کے قلبی نتائج پہلے ہی پاکستان کے اسپتالوں میں نظر آنے لگے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر کے 150 ایسے مریضوں میں، جو ایکیوٹ کورونری سنڈروم کے ساتھ اسپتال لائے گئے، دل کے دورے کی اوسط عمر صرف 34 سال تھی۔ ان مریضوں میں سے پانچ میں سے ایک سے زائد میں ہائی بلڈ پریشر ایک اہم خطرے کے عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ یہ وہ افراد تھے جو اپنی عملی زندگی کے بہترین دور میں تھے، جن میں سے اکثر کو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کا بلڈ پریشر خاموشی سے ایک بڑے دل کے دورے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آخر کیا بدلا ہے؟ ہم اس عمر میں یہ تبدیلی کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اس کا جواب صرف جینیات میں نہیں بلکہ آج کے شہری پاکستانی طرزِ زندگی کے ڈھانچے میں چھپا ہے۔
آئیے دباؤ (اسٹریس) سے آغاز کرتے ہیں، کیونکہ 2026 میں مسلسل نفسیاتی دباؤ اب کوئی مبہم یا نرم شکایت نہیں رہا۔ یہ ایک جسمانی (فزیالوجیکل) عمل ہے۔ جب جسم کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے، چاہے وہ کام کی ڈیڈ لائن ہو، مالی پریشانی ہو یا سوشل میڈیا فیڈ کی مسلسل ذہنی یلغار، تو یہ ہائپوتھیلمک پیٹیوٹری ایڈرینل ( ایچ پی اے) محور کو متحرک کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں خون میں کورٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور خون کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ کیفیت روزانہ، مہینوں اور برسوں تک بار بار دہرائی جائے تو نتیجہ ایک ایسا عروقی نظام ( ویسکیولر سسٹم) ہوتا ہے جو مسلسل دباؤ کی حالت میں رہتا ہے۔
پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی صحت پر پڑنے والے اثرات کو ناپنا شروع کر رہے ہیں۔
2025 میں شائع ہونے والے جریدے فرنٹیئرز ان کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے مطالعے، جو اس بیماری کے عالمی بوجھ 2021 کے ڈیٹا بیس پر مبنی ہے، کے مطابق جدید طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، خاص طور پر بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ، بیٹھے رہنے کا رجحان اور زیادہ شوگر و چکنائی والی خوراک، 15 سے 39 سال کی عمر کے گروپ میں ہائی بلڈ پریشر کے بوجھ کو براہِ راست بڑھا رہی ہیں۔ اسلام آباد کے وہ نوجوان پیشہ ور افراد جو مختلف ٹائم زونز میں کلائنٹ کالز سنبھال رہے ہیں، یا وہ میڈیکل کے طلبہ جو امتحانات سے پہلے مسلسل راتیں جاگ رہے ہیں، ان کے لیے یہ کوئی مفروضہ خطرہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔
شہری زندگی میں جسمانی سرگرمی کا تقریباً مکمل خاتمہ اس دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ہم نے حرکت کو اپنی روزمرہ زندگی سے تقریباً ختم کر دیا ہے۔ دفاتر، جامعات اور گھر تیزی سے بیٹھے رہنے والے ماحول میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ڈیلیوری سروسز ہر چیز دروازے تک پہنچا دیتی ہیں اور ملاقاتیں اسکرینوں پر ہوتی ہیں۔ 2024 میں پب میڈ(سائنسی تحقیقی مقالوں کے عالمی ڈیٹا بیس) میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے (سسٹمیٹک ریویو) نے تصدیق کی ہے کہ بیٹھے رہنے کا رویہ نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کے لیے سب سے اہم شماریاتی طرزِ زندگی خطرات میں سے ایک ہے، خصوصاً جب یہ موٹاپے اور غیر صحت مند خوراک کے ساتھ جڑا ہو۔
کراچی میں 2024 کے دوران آغا خان یونیورسٹی کی اسکول بیسڈ تحقیق کے مطابق شہری بچوں میں سے 13 فیصد پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 21 فیصد میں پیٹ کے گرد چربی ( سینٹرل اوبے ستٹی ) دیکھی گئی۔ یہ وہ بچے ہیں جو آنے والے برسوں میں ہائی بلڈ پریشر کے ممکنہ مریض بن سکتے ہیں۔
پھر آتی ہے ہماری خوراک، یا زیادہ درست الفاظ میں، وہ چیزیں جو ہم نہیں کھا رہے۔ 2024 میں جریدے نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک طویل المدتی مشاہداتی (پراسپیکٹیو کوہارٹ) تحقیق کے مطابق 47 سال سے کم عمر افراد جنہوں نے زیادہ مقدار میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز استعمال کیے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً دوگنا پایا گیا، ان افراد کے مقابلے میں جو کم مقدار میں ایسی غذائیں کھاتے تھے۔ فائل میں بند بریانی، انسٹنٹ نوڈلز، فزی ڈرنکس اور سڑک کنارے دستیاب پیکڈ اسنیکس عام طور پر زیادہ سوڈیم، صنعتی چکنائیوں اور اضافی کیمیکلز پر مشتمل ہوتے ہیں، جو خون کی نالیوں کی اندرونی جھلی ( اینڈو تھیلیل فنکشن) کو متاثر کرتے ہیں، جسم میں سوڈیم کے اخراج کو کم کرتے ہیں اور شریانوں میں سوزش ( ویسکولر انفلامیشن) کو بڑھاتے ہیں۔
پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی اثرات کا اندازہ لگانا شروع کر رہے ہیں۔
آخر میں باری آتی ہے نیند کی، جو شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا عنصر ہے۔ متعدد مطالعات نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ کم نیند اور نوجوان و درمیانی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے درمیان مضبوط تعلق پایا جاتا ہے۔ ایشیا، بشمول پاکستان، دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں رات دیر تک جاگنے کی شرح سب سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال، سماجی مصروفیات اور ذہنی دباؤ ہیں۔
2025 میں ہونے والی ایک کراس سیکشنل (ایک ہی لمحے میں بیماری یا رویے کی جانچ) تحقیق، جس میں پاکستانی شرکاء شامل تھے، نے یہ پایا کہ کم نیند کا تعلق نمایاں طور پر زیادہ ذہنی دباؤ اور قلبی امراض کے خطرے میں اضافے سے ہے۔
نیند کی کمی جسم کے ہمدرد اعصابی نظام کی سرگرمی بڑھا دیتی ہے، رات کے وقت بلڈ پریشر میں قدرتی کمی کو متاثر کرتی ہے، اور شریانوں کی سختی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ وہ تمام عمل ہیں جن کی مرمت جسم عام طور پر آدھی رات سے فجر کے درمیان کرتا ہے۔ جب یہ وقت اسکرین کے استعمال، مثلاً انسٹاگرام ریلز یا امتحانات کے دباؤ کی نذر ہو جاتا ہے، تو جسم کو یہ قدرتی بحالی کا موقع نہیں ملتا۔
مجموعی تصویر نہایت تشویشناک ہے۔ شہری پاکستان میں رہنے والا ایک 26 سالہ نوجوان جو باقاعدگی سے پراسیسڈ فوڈ کھاتا ہے، دن کا بیشتر حصہ بیٹھا رہتا ہے، چھ گھنٹے سے کم سوتا ہے، اور مالی یا تعلیمی دباؤ کا شکار ہے، وہ صرف طرزِ زندگی کے انتخاب نہیں کر رہا بلکہ خاموشی سے ہائی بلڈ پریشر کی بنیاد رکھ رہا ہے—بغیر کسی واضح علامت کے۔
اس کا حل کیا ہے؟ سب سے مؤثر قدم اب بھی طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ ہفتے میں زیادہ تر دنوں میں 30 سے 45 منٹ کی معتدل ایروبک ورزش سسٹولک بلڈ پریشر کو 4 سے 9 ملی میٹر تک کم کر سکتی ہے، جو بعض ادویات کے اثر کے برابر ہے۔
کم نمک اور پراسیسڈ فوڈ سے پاک، جبکہ پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور خوراک خون کی نالیوں کے صحت مند توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے معیاری نیند، اور ذہنی دباؤ کو منظم کرنے کے طریقے جیسے ذہنی سکون ( مائنڈ فل نیس)، عبادت یا باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وقت کے ساتھ جسم کے تناؤ کے ردعمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بہت سے مریضوں کے لیے صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی کافی نہیں ہوتی۔ اگر غیر ادویاتی اقدامات کے باوجود بلڈ پریشر مسلسل بلند رہے تو طبی علاج ضروری ہو جاتا ہے اور اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ عالمی معیارِ علاج میں کئی مؤثر اور عام دستیاب ادویاتی گروپس شامل ہیں۔
ان میں اینجیوتینسن کنورٹنگ انزائم روکنے والی ادویات( اے سی ای ان ہیبیٹرز) اور اینجیوتینسن II ریسیپٹر بلاکرز(اے آر بیز) شامل ہیں جو دل اور گردوں کی حفاظت کرتے ہوئے خون کی نالیوں کی مزاحمت کم کرتے ہیں؛ کیلشیم چینل بلاکرز جو شریانوں کو پھیلا کر نرم کرتے ہیں؛ تھایازائیڈ ڈائی یوریٹکس جو جسم میں اضافی پانی کم کرتے ہیں؛ اور بیٹا بلاکرز جو دل کی دھڑکن اور کارڈیک آؤٹ پٹ کو کم کرتے ہیں۔
یہ تمام ادویات پاکستان میں دستیاب ہیں، نسبتاً سستی ہیں، اور درست طریقے سے استعمال کی جائیں تو نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ علاج کی عدم دستیابی نہیں بلکہ اس خاموش بیماری کے بارے میں آگاہی اور سمجھ کی کمی ہے۔
اس ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے پر ایک سادہ مگر اہم قدم: اپنا بلڈ پریشر ابھی چیک کریں، اور بہتر نتائج کے لیے اس کا ریکارڈ (چارٹ) رکھیں۔ اگر یہ مسلسل بلند ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب خوراک اور ضرورت پڑنے پر طبی علاج اختیار کریں۔ یہ معمولی سا قدم آنے والے کئی دہائیوں کی صحت کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ ”خاموش قاتل“ اسی لیے خاموش ہے کیونکہ یہ آپ سے کچھ مانگے بغیر سب کچھ چھین لیتا ہے۔ شہری پاکستان کی تیز رفتار زندگی کو اس کی وجہ نہ بننے دیں کہ آپ نے خطرے کو وقت پر نہیں دیکھا۔

























Comments