پاکستان کی زرعی شعبے کی بہتری کیلئے چین سے تعاون کی اپیل
- پاکستان اور چین کی فولادی دوستی اب اقتصادی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہورہی، وزیراعظم
وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کو چین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دے کر پاکستان کے زرعی شعبے میں بڑی تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) پاکستان کے زرعی تحقیقی اداروں کی بحالی اور کاشتکاری کے طریقوں کو جدید بنانے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔
بیجنگ میں چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے دورے پر پاک چین زرعی تعاون سے متعلق ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی فولادی دوستی اب اقتصادی تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے، بالخصوص زراعت، تحقیق، جدت طرازی اور دیہی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو نئی وسعت مل رہی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اکیڈمی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ہوانگ سانوین اور فیکلٹی (اساتذہ) کا انہیں اعزازی پروفیسر کی ڈگری دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال ہم پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منارہے ہیں، یہ موقع ہمیں اس عزم اور حوصلے کی ترغیب دیتا ہے کہ ہم مل کر اس فولادی دوستی کو صنعت، زراعت، تحقیق و ترقی اور دیگر تزویراتی (اہم) شعبوں میں ایک عظیم اقتصادی انقلاب میں تبدیل کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ معاشی خودمختاری حاصل کرنے اور ملک کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم پاکستان کے مستقبل کی بات کرتے ہیں، تو ہم جھلسا دینے والی گرمی اور سخت سردی میں کام کرنے والے اپنے کسانوں، لیبارٹریوں میں انتھک محنت کرنے والے سائنسدانوں اور عظیم اداروں میں علم حاصل کرنے والے طالب علموں کی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی فوری بحالی کی ضرورت ہے، انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ چینی اکیڈمی اس ادارے میں اصلاحات لانے اور پاکستان میں زرعی تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے براہِ راست قیادت کا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لائحہ عمل بالکل واضح ہے کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اس وقت غیر فعال ہے، اگر ہمیں اپنا مستقبل بنانا ہے اور اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے تو تحقیقی مراکز کو نئے ٹیلنٹ اور جدید تحقیقی کلچر کے ساتھ دوبارہ فعال کرنا ہو گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی اکیڈمی کو دعوت دی کہ وہ طویل مدتی ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے کو بدلنے کے اقدام کی قیادت کرے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ یہ اکیڈمی عالمی معیار کے سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ کو پاکستان لانے میں مدد کرے۔
زرعی تعاون پر پاک-چین مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے چین کے تعاون سے زرعی شعبے میں طویل عرصے سے زیرِ التوا سنگِ میل حاصل کرنے کے لیے اپنے پختہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments