ہرمز بحران کے خدشات: پاکستان کا اسٹریٹجک تیل ذخائر بڑھانے کا فیصلہ
- پاکستان کے پاس اس وقت اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں، رپورٹ
حکومتی دستاویز کے مطابق پاکستان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کے مقامی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ دستاویز تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں اور دنیا کی چند بڑی تجارتی فرموں کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہے۔
پاکستان اپنی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کے لیے 90 فیصد تک آبنائے ہرمز کے راستے پر انحصار کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کے پاس اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں ہیں۔
اسی کمزوری کے باعث ایران جنگ سے پیدا ہونے والے سپلائی بحرانوں نے پاکستان کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام نے حکومت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مہنگے سرکاری ذخائر قائم کرنے کی گنجائش بھی محدود کر رکھی ہے۔
رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی دستاویز کے مطابق وزارتِ توانائی نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بانڈڈ ٹرمینلز، ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے ذریعے تجارتی بنیادوں پر ذخیرہ گاہیں بنانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار بڑھانے، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور ڈاؤن اسٹریم شعبے کی تنظیمِ نو پر بھی زور دیا گیا ہے۔
دستاویز میں وزارتِ توانائی نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے ہنگامی ذخائر کے ساتھ مقامی سپلائی صلاحیت کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔‘‘
مجوزہ فریم ورک سعودی آرامکو، ابوظبی نیشنل آئل کمپنی، کویت پیٹرولیم کارپوریشن، قطر انرجی اور پیٹروچائنا سمیت عالمی تجارتی کمپنیوں ویٹول، ٹریفگیورا اور ذخیرہ کاری کے شعبے سے وابستہ ووپاک کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔
ٹریفگیورا اور ویٹول نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ دیگر کمپنیوں اور پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنا ’’کہنے میں آسان مگر عمل میں مشکل‘‘ کام ہے، خصوصاً ایسے ملک کے لیے جو آئی ایم ایف پروگرام اور شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبہ بندی سے عملی اقدامات کی جانب تیزی سے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بانڈڈ اسٹوریج، اسٹریٹجک ذخائر اور توانائی انفرااسٹرکچر
بانڈڈ اسٹوریج منصوبے کے تحت عالمی سپلائرز اور تجارتی کمپنیوں کو پاکستان میں پیٹرولیم ذخائر رکھنے کی اجازت دی جائے گی، جس سے تجارتی ذخائر قائم ہوں گے اور ہنگامی صورتحال میں مقامی سپلائی برقرار رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ حکومت کمپنیوں کو دوبارہ برآمد کے لیے ایندھن ذخیرہ کرنے کی اجازت بھی دے سکتی ہے۔
دستاویز میں مراعات، قیمتوں، ٹیکس، زرمبادلہ، خریداری یا ملکیت کی شرائط سمیت دیگر تفصیلات واضح نہیں کی گئیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آیا کمپنیوں کو ذخیرہ گاہوں کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی یا نہیں۔
وزارتِ توانائی چاہتی ہے کہ سپلائرز کے لیے بانڈڈ اسٹوریج فریم ورک جون تک حتمی شکل دے دی جائے۔
دستاویز میں اسٹریٹجک ذخائر کی عدم موجودگی کے علاوہ بندرگاہی انفراسٹرکچر کی محدود صلاحیت، جہاز سے جہاز منتقلی کی ناکافی سہولت اور کم ذخیرہ گنجائش کو بھی پاکستان کی کمزوریوں میں شامل کیا گیا ہے۔
حکومت کے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام کے لیے ایک الگ فنڈ قائم کیا جائے گا، جسے پیٹرولیم لیوی سے فی لیٹر 10 روپے مختص کر کے مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے، جبکہ اس کی رقوم یکم جولائی سے مختص ہونا شروع ہوں گی۔ دستاویز کے مطابق اس اقدام سے سالانہ تقریباً 70 کروڑ ڈالر جمع ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان میں اس وقت ڈیزل پر فی لیٹر 58 روپے جبکہ پیٹرول پر 102 روپے 17 پیسے ٹیکس عائد ہے۔
اس کے علاوہ حکومت ریفائنریوں پر لازم کرنا چاہتی ہے کہ وہ خام تیل کے کم از کم 15 روزہ ذخائر رکھیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیار شدہ مصنوعات کے 30 روزہ ذخائر برقرار رکھیں۔ یہ قواعد جون 2028 تک مرحلہ وار ریفائنری پالیسی، مارجن میں نظرثانی اور ڈاؤن اسٹریم شعبے کی تنظیمِ نو کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔
دستاویز میں حب اور پورٹ قاسم کے اطراف توانائی انفرااسٹرکچر کوریڈور قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس میں سنگل پوائنٹ مورنگ، ذخیرہ گاہیں اور پائپ لائن رابطے شامل ہوں گے، تاکہ چھوٹے اور مہنگے کارگو پر انحصار کم کیا جا سکے۔

























Comments