فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر پزشکیان و دیگر سے ملاقاتیں
- فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسپیکر باقر قالیباف سے بھی علیحدہ ملاقات کی
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں، جس میں صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔
سرکاری میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب خطہ شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر پزشکیان کے ساتھ خصوصی ملاقات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، استحکام کے قیام اور سفارتی راستوں کے ذریعے صورتحال بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اسپیکرباقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسپیکر باقر قالیباف سے بھی علیحدہ ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔
اس موقع پرباقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسے فریق کے ساتھ جس پر عدم اعتماد کی صورتحال ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے میدان جنگ میں بھی اپنے ملک کا دفاع کیا ہے اور سفارت کاری میں بھی اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی مشکلات کا سامنا کیا اور بعض معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایرانی عوام کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی افسران براہ راست اور واضح انداز میں بات کرتے ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایرانی قیادت کی حکمت عملی اور دانشمندی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران ایک اہم اور اسٹریٹجک انداز میں فیصلے کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات میں بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے، امن و استحکام کے فروغ اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی حکومت کے مطابق دونوں فریقین نے مغربی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔

























Comments