حکومت نے فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری کے لیے بولیاں طلب کرلیں
- نجکاری عمل کے تحت 51 سے 100 فیصد تک حصص فروخت کیے جائیں گے تاکہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو زیادہ مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں
حکومت نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کے تحت بجلی کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، کی نجکاری کے لیے مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی ( ای او آئیز) طلب کر لیا ہے۔
پاکستان پرائیویٹائزیشن کمیشن کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق سرمایہ کاروں کو ان تینوں کمپنیوں میں 51 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک شیئرز اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، صارفین کو خدمات کی فراہمی مؤثر بنانا، مقامی و غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملک کے بجلی کے شعبے میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تینوں ڈسکوز پنجاب اور اسلام آباد کے اہم صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن نے کہا ہے کہ یہ عمل مکمل شفافیت اور مسابقتی بنیادوں پر بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق انجام دیا جائے گا۔ دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کار انفرادی طور پر یا کنسورشیم کی صورت میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے اہلیت کے وہ معیار پورے کرنا ہوں گے جو درخواستِ اہلیت ( آر ایس او کیو) کی دستاویزات میں واضح کیے گئے ہیں۔
ہر کمپنی کے لیے الگ الگ درخواستیں جمع کرانا لازم ہوگا۔ اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخیں فیسکو کے لیے 7 جولائی، گیپکو کے لیے 6 اگست اور آئیسکو کے لیے 7 ستمبر مقرر کی گئی ہیں۔
کمیشن کے مطابق ایک آن لائن سرمایہ کار بریفنگ بھی مالیاتی مشیر کے اشتراک سے منعقد کی جائے گی، جس میں ٹرانزیکشن اسٹرکچر، سرمایہ کاری کے مواقع اور طریقہ کار سے متعلق تفصیلی آگاہی دی جائے گی۔
حکومت کے نزدیک بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری توانائی کے شعبے کو جدید بنانے، غیر مؤثر کارکردگی میں کمی لانے اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ وہ سرمایہ کاروں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر موجودہ ڈسکوز کے ٹیرف ڈھانچے، ملٹی ائیر ٹیرف (ایم وائی ٹی) نظام، بزنس ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے فریم ورک کو مزید بہتر بنانے پر کام کرے گا۔
بیان کے مطابق مجوزہ اصلاحات کا مقصد کارکردگی اور کارکردگی پر مبنی منافع کا ایسا نظام قائم کرنا ہے جس کے تحت نجی سرمایہ کار ڈسکوز کے انفرااسٹرکچر اور صارف بیس کو اضافی تجارتی مواقع کے لیے بھی استعمال کر سکیں۔
کمیشن نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ پیش گو اور مستحکم ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کی بنیاد ریگولیٹری شفافیت، پالیسی کے تسلسل اور ادارہ جاتی اصلاحات پر رکھی جا رہی ہے۔

























Comments