پاکستان کو آئی پی حقوق کی خلاف ورزی سے سالانہ 3 ارب ڈالر کا نقصان، او آئی سی سی آئی سروے
- غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ماحول میں کام کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کے برانڈز، مصنوعات محفوظ ہوں، سیکرٹری جنرل عبد العلیم
اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے اپنی تازہ ترین آئی پی آر سروے رپورٹ جاری کردی جس میں 8 شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 860 ارب روپے (یعنی 3.1 ارب ڈالر) کا ریونیو اور ٹیکسز کی مد میں نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سروے میں شریک او آئی سی سی آئی کی ہر 10 میں سے 6 رکن کمپنیوں کا کہنا ہے کہ دانشورانہ ملکیت کے حقوق کو جزوی طور پر تحفظ حاصل ہے اور پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت ان میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیوں کو دانشورانہ املاک کی خلاف ورزی کی سب سے عام شکل قرار دیا گیا۔ نفاذ کے حوالے سے صورتحال بھی اتنی ہی تشویشناک ہے کیونکہ بیشتر آئی پی تنازعات کے حل میں تین سال سے زائد عرصہ لگ جاتا ہے جب کہ سروے کے مطابق مقدمات شاذ و نادر ہی ابتدائی مراحل میں نمٹائے جاتے ہیں۔
ارکان نے کسٹمز، پولیس اور ایف آئی اے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو محدود قرار دیا ہے۔ سروے میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹرپس اور وائپو کے معیار کے مطابق قانونی اصلاحات کی جائیں، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جائے، سرحدی گزرگاہوں پر آئی پی واچ لسٹ مرتب کی جائے اور زیادہ خطرے والے شعبوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔
تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی او پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل نعمان اسلم نے کہا کہ آئی پی آر کا مضبوط تحفظ معاشی ضرورت ہے۔ یہ نتائج مضبوط اداروں، اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور آئی پی آر کے نفاذ کے پورے نظام (ایکوسسٹم) میں بہتر سروس ڈلیوری کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ آئی پی او پاکستان قوانین کے نفاذ کے فرق کو ختم کرنے اور پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر متعارف کروانے کے لیے پرعزم ہے جو جدت طرازی کی قدر کرتی ہے۔
او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل عبد العلیم نے کہا کہ سروے کے نتائج اس کام کی یاد دہانی کراتے ہیں جو پاکستان میں آئی پی آر کے حوالے سے ابھی کیا جانا باقی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ماحول میں کام کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کے برانڈز، مصنوعات محفوظ ہوں اور جہاں تنازعات کو مناسب وقت کے اندر حل کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو اور ٹیکسوں کی مد میں 860 ارب روپے کا سالانہ نقصان ایک ایسا معاملہ ہے جو بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان نتائج کو اسی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ لیں گے جس کے ساتھ یہ پیش کیے گئے ہیں اور بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
چیمبر نے اس امید کا اظہار کیا کہ سروے کے نتائج پالیسی سازی کے لیے ایک عملی حوالے کے طور پر کام کریں گے اور پاکستان میں ایک محفوظ اور جدت دوست کاروباری ماحول کی تعمیر میں معاون ثابت ہوں گے۔

























Comments