پنجاب انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس بل 2026 واپس لیا جائے، اپٹما
- 6 مئی کو منظور بل کاروباری برادری کے لیے باعثِ اضطراب، اضافی بوجھ پنجاب کی صنعتوں کو بند کرنے پر مجبور کر سکتا۔ چیئرمین اپٹما کامران ارشد کا وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو خط
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے پنجاب حکومت سے پنجاب انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2026 فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو لکھے گئے خط میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے 6 مئی کو منظور ہونے والے اس بل پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری کے لیے باعثِ اضطراب قرار دیا ہے۔
بل کے تحت پنجاب میں تیار درآمد یا برآمد ہونے والی تمام اشیاء پر 0.90 فیصد سس عائد کیا گیا ہے۔ اپٹما نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکس سے برآمدی صنعت بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے عالمی منڈی میں مسابقت مشکل ہو جائے گی۔ خط میں کہا گیا کہ یہ اضافی بوجھ پنجاب کی صنعتوں کو بند کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے سس افسران کو دیے گئے وسیع اختیارات پر بھی کڑی تنقید کی، جن میں چیک پوسٹوں کے قیام اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔ اپٹما کے مطابق یہ اقدامات ہراساں کیے جانے اور بیوروکریٹک مداخلت کا باعث بنیں گے۔ مزید برآں پنجاب کی صنعتوں کو سندھ کے مقابلے میں دہرے ٹیکس کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ برآمدی سامان سندھ سے گزرتے وقت وہاں بھی ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اپٹما نے زور دیا کہ حکومت صنعتکاروں سے مشاورت کے ذریعے اس پالیسی پر نظرثانی کرے، تاکہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری متاثر نہ ہو۔






















Comments