امریکا روس تعلقات میں کچھ بھی نہیں ہو رہا، سرگئی لاوروف
- اچھی باتیں تو ضرور ہو رہی ہیں، لیکن ان پر کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی، روسی وزیر خارجہ
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا اور روس کے تعلقات کے بارے میں بظاہر بہت سی مثبت باتیں کی جا رہی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔
سرگئی لاوروف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد امریکا اور روس کے درمیان دوبارہ رابطہ بحال ہوا اور ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کا بارہا وعدہ بھی کیا، لیکن امن کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون سے متعلق اچھی باتیں تو ضرور ہو رہی ہیں، لیکن ان پر کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو اس بات کو سراہتا ہے کہ ٹرمپ نے روس کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔
روسی وزیر خارجہ نے آر ٹی انڈیا کو انگریزی میں دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ تاہم عملی زندگی میں کچھ نہیں ہو رہا۔
ان کے مطابق روس کے ساتھ جاری محدود رابطہ بھی سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور کی پالیسی کے تسلسل جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ نے بھی روسی معیشت کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی نئی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
سرگئی لاوروف نے زور دیا کہ اگرچہ سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے، لیکن عملی طور پر تعلقات میں بہتری کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
























Comments