ٹرمپ کے ایران جنگ بندی ’لائف سپورٹ‘ بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز 3.17 ڈالر (3.13 فیصد) اضافے کے ساتھ 104.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 12:15 بجے دوپہر (ای ڈی ٹی) پر ریکارڈ کیا گیا
تیل کی عالمی قیمتوں میں پیر کے روز 3 فیصد سے زائد اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ”لائف سپورٹ“ پر ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی اور جنگ کے خاتمے کی امیدیں مزید کمزور پڑ گئیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 3.17 ڈالر یا 3.13 فیصد اضافے کے ساتھ 104.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے (12:15 بجے دوپہر، ای ڈی ٹی)، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 2.90 ڈالر یا 3.04 فیصد اضافے کے ساتھ 98.32 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ دورانِ تجارت برینٹ کی قیمت 105.99 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 100.37 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جب یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ 10 ہفتوں سے جاری تنازع جلد ختم ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہو سکے گی۔
تاہم پیر کے روز صورتحال تبدیل ہو گئی جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ”لائف سپورٹ“ پر ہے، اور تہران کی امریکی امن تجویز کو ”بے وقوفانہ“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کردہ تجویز کے بعد ایران نے اتوار کو ایک جوابی مؤقف پیش کیا، جس میں جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمے کا مطالبہ شامل تھا، بشمول لبنان جہاں امریکی اتحادی اسرائیل حزب اللہ کے خلاف برسرپیکار ہے۔
تہران نے اس کے ساتھ ساتھ جنگی نقصان کے ازالے، آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، مزید حملوں کی ضمانت، پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم چند گھنٹوں میں ہی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کی پیشکش کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دے دیا۔
رابوبینک کی انرجی اسٹریٹجسٹ فلورنس شمٹ کے مطابق، ”حالات چند دنوں میں کشیدگی میں کمی سے دوبارہ کشیدگی کی طرف چلے گئے ہیں، اور تیل کی مارکیٹ اس پر ردعمل دے رہی ہے، اگرچہ یہ ردعمل ابھی محدود ہے۔“
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ رواں ہفتے بیجنگ کا دورہ کریں گے جہاں ان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے، اور امکان ہے کہ ایران کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔
مِزوہو کے انرجی فیوچرز کے ڈائریکٹر باب یگر کے مطابق، ”فی الحال کوئی بھی فریق حالات کو مزید بگاڑنے کا خواہاں نہیں، خاص طور پر چین اور ٹرمپ ملاقات کے دوران۔“
سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں عالمی منڈی سے تقریباً ایک ارب بیرل تیل غائب ہو چکا ہے، اور اگرچہ سپلائی بحال بھی ہو جائے، مارکیٹ کو استحکام میں وقت لگے گا۔
اسی دوران چین کے لیے سعودی خام تیل کی برآمدات میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ خریداروں نے ایران-امریکا کشیدگی کے باعث مہنگی قیمتوں اور کم سپلائی کی وجہ سے آرڈرز کم کر دیے ہیں۔
اوپیک کے 12 رکن ممالک کی پیداوار بھی اپریل میں کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی، جو دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، جبکہ مارچ کے اعداد و شمار بھی نظرثانی کے بعد مزید کم کیے گئے۔
مزید یہ کہ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے تین آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے نکلے، جن میں سے ایک عراقی خام تیل لے کر ویتنام جا رہا تھا، تاہم ان کے ٹریکنگ سگنلز بند تھے، جو صورتحال کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
جاپان کی وزارتِ صنعت نے بھی تصدیق کی ہے کہ آذربائیجان سے خام تیل لے جانے والا ایک ٹینکر منگل تک پہنچنے والا ہے، جو ایران جنگ کے آغاز کے بعد وہاں سے پہلی کھیپ ہوگی۔
جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتیں زیادہ تر سال کے بقیہ حصے میں 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہیں گی، جبکہ 2026 میں اوسط قیمت 97 ڈالر متوقع ہے، اور ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے باوجود فوری طور پر معمول کی صورتحال بحال ہونے کا امکان کم ہے۔






















Comments