BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
دنیا

ایران نے امن منصوبے پر ردعمل مؤخر کر کے امریکہ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا

  • خلیج میں نئی جھڑپوں کے دوران ایران نے امریکی سفارتی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیے، جنگ بندی کی تجویز پر واشنگٹن ایرانی جواب کا منتظر
شائع May 9, 2026 اپ ڈیٹ May 9, 2026 08:49pm

خلیج میں بحری جھڑپوں کے نئے سلسلے کے بعد ایران نے ہفتے کے روز امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے، جبکہ واشنگٹن اب بھی تہران کے تازہ مذاکراتی موقف پر جواب کا منتظر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انہیں جنگ بندی کے نازک معاہدے میں توسیع اور امن مذاکرات کے آغاز سے متعلق واشنگٹن کی نئی تجویز پر ایران کے جواب کی توقع ہے، ’’ممکنہ طور پر آج رات تک‘‘۔

تاہم اگر ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے کوئی جواب بھجوایا بھی، تو اس کا کوئی عوامی اشارہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب سے گفتگو میں امریکی قیادت کے قابلِ اعتماد ہونے پر سوال اٹھا دیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ’’خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ کشیدگی میں اضافہ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق ان کے متعدد اقدامات نے سفارت کاری کے عمل میں امریکی فریق کی نیت اور سنجیدگی کے حوالے سے شکوک و شبہات مزید بڑھا دیے ہیں۔‘‘

جمعہ کو پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک امریکی جنگی طیارے نے دو ایرانی پرچم بردار ٹینکروں پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا، جن پر واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ملک کی بحریہ نے ’’امریکی دہشت گردی کا جواب کارروائیوں کے ذریعے دیا‘‘ اور یہ کہ ’’جھڑپیں اب ختم ہو چکی ہیں۔‘‘

تازہ واقعہ آبنائے ہرمز میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی کشیدگی کے بعد پیش آیا۔ یہ اہم عالمی بحری گزرگاہ ایران کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے، جہاں تہران غیر ملکی بحری جہازوں سے محصولات وصول کرنے اور امریکہ و اس کے اتحادیوں پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو ایک بار پھر کہا کہ تہران کے لیے اس اہم تیل بردار بحری راستے پر کنٹرول حاصل کرنا ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔

واشنگٹن نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو خلیج میں جنگ بندی میں توسیع کی ایک تجویز بھجوائی ہے تاکہ 10 ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آئی ایس این اے کے مطابق جمعہ کو کہا کہ اس تجویز کا ’’جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی قیادت میں مستقل امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایران جنگ کے دوران قطر میں بعض مقامات کو بھی نشانہ بنا چکا ہے اور اس کی وجہ امیر ریاست قطر میں موجود بڑے امریکی فضائی اڈے کو قرار دیا جاتا ہے۔

دریں اثنا، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے ساحل کے قریب سمندر میں تیل کی تہہ پھیل رہی ہے۔

عالمی نگرانی کے ادارے آربیٹل ای او ایس کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ممکنہ اخراج کی وجہ کیا تھی، تاہم یہ تہہ جزیرے کے مغربی ساحل کے قریب دیکھی گئی اور اس کا پھیلاؤ 20 مربع میل (52 مربع کلومیٹر) سے زیادہ رقبے تک محسوس کیا گیا۔

برطانیہ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم، کنفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے تک تیل کی یہ تہہ ’’نمایاں حد تک کم ہو چکی تھی‘‘ اور امکان ہے کہ اس کی وجہ تیل کے انفرااسٹرکچر سے ہونے والا رساؤ ہو۔

خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکزی مرکز اور اس کی دباؤ کا شکار معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خلیج میں آبنائے ہرمز کے شمال میں واقع ہے۔

28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے بعد ازاں ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔

اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی بحری آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے مقصد سے امریکی بحری آپریشن کا اعلان کیا، تاہم منگل کو مذاکرات کی بحالی کو ترجیح دیتے ہوئے اس منصوبے سے دستبردار ہو گئے۔

سعودی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز آپریشن کے لیے امریکی فوج کو اپنے اڈے اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک ذریعے کے مطابق ریاض کا مؤقف تھا کہ ’’اس سے صورتحال مزید بگڑے گی اور کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

دوسری جانب لبنان میں جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

لبنانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز بیروت کے جنوب میں تین حملوں کی اطلاع دی، حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تین ہفتے قبل جنگ بندی طے پائی تھی۔

اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بیروت کو ملک کے جنوبی علاقوں سے ملانے والی شاہراہ پر دو تباہ شدہ گاڑیاں اور امدادی کارکنوں کو دیکھا۔ یہ مقام دارالحکومت سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل، جو 1948 سے باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، آئندہ ہفتے واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کرنے والے ہیں، جن کی حزب اللہ سخت مخالفت کر رہی ہے۔

Comments

200 حروف