وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7E کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے۔ اس شق کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ جائیداد کے مالکان سے فرضی آمدن پر ٹیکس وصول کرے، چاہے وہ جائیداد حقیقت میں کرائے پر نہ بھی دی گئی ہو۔
اس شق کی شمولیت نے ایف بی آر کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ 2 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیداد رکھنے والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرے، جس کی مالیت کا تعین فیئر مارکیٹ ویلیو کے مطابق کیا جانا تھا۔ اس شق کی واضح ناانصافی کو اجاگر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے تحت ایف بی آر کو اس آمدنی پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جسے وہ فرضی طور پر ممکن سمجھتا تھا، جیسے کسی دوسرے گھر یا رہائش کی ملکیت سے حاصل ہونے والی ممکنہ کرایہ آمدنی، چاہے وہ جائیداد کرائے پر دی ہی نہ گئی ہو۔ دوسرے لفظوں میں غیر حقیقی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جانا تھا اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے اس شق کو کالعدم قرار دینا بزنس ریکارڈر کے طویل عرصے سے جاری مطالبے کی توثیق کے مترادف ہے۔
جس بات کو شدید تشویش کا باعث سمجھا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کمشنر ان لینڈ ریونیو نے پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف سول درخواستیں دائر کرنا مناسب سمجھا جس کے نتیجے میں قیمتی عوامی وسائل کا ضیاع ہوا۔
ایف بی آر کی اس روش پر سنجیدگی سے قابو پانے کی ضرورت ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے دائر کی گئی تمام جائز اپیلوں کے خلاف، ان کی معقولیت سے قطع نظر، قانونی چارہ جوئی کرتا ہے، جس سے قیمتی اور محدود عوامی وسائل کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح کے غیر ضروری مقدمات میں جانے کی منظوری دینے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جس میں جرمانے عائد کرنا اور تادیبی اقدامات شامل ہوں۔
موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی انتظامیہ کو ریونیو کی وصولی کے سلسلے میں تین بڑی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ پہلی رکاوٹ عالمی مالیاتی اداروں (بشمول آئی ایم ایف) کی جانب سے مقرر کردہ ریونیو کے غیر حقیقت پسندانہ اہداف کو تسلیم کرنا ہے جن کا حصول شاذ و نادر ہی ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی 79 سالہ تاریخ میں 72 سال تک آئی ایم ایف کے پروگراموں میں رہا ہے - اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے اپنے چوبیسویں پروگرام پر عمل پیرا ہے اور ہر پروگرام کی عام مدت تین سال ہوتی ہے۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ جاری اخراجات میں اضافہ مسلسل جاری ہے اور حکومتیں عام طور پر اپنے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں میں زیادہ مصروفیت کا دعویٰ کیا جا سکے، جب کہ سال کے دوران عالمی اداروں کے مقرر کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اس میں کٹوتی کر دی جاتی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت اس سال پہلے ہی پی ایس ڈی پی میں تقریباً 50 فیصد تک کٹوتی کر چکی ہے، جس کی بظاہر وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع ہے جس کی بنا پر متوسط طبقے کے لیے پیٹرول پر سبسڈی دینا ضروری ہو گیا ہے۔
اور آخر میں پاکستان کا ٹیکس ڈھانچہ غیر منصفانہ ہے (جس کی وجہ سیلز ٹیکس جیسے بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار ہے، جو کہ غریبوں پر امیروں کی نسبت زیادہ بوجھ ڈالنے کی وجہ سے رجعت پسندانہ یعنی ’regressive‘ کہلاتے ہیں)، ناپسندیدہ ہے (براہ راست ٹیکسوں کی وصولی کے تناسب میں نمایاں اضافے کے باوجود اس کا سہرا ایف بی آر کی اس مشق کو جاتا ہے جس میں سیلز ٹیکس کی طرز پر لگائے گئے ودہولڈنگ ٹیکسز کو براہ راست ٹیکسوں کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے، یہ وہ الزام ہے جو آڈیٹر جنرل نے عائد کیا تھا اور ایف بی آر کو اس غیر دیانتدارانہ عمل سے باز رہنے کی سفارش کی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا)، اور تضادات سے بھرپور ہے (جہاں کچھ بااثر افراد اسی مصنوعات کی تیاری میں مصروف دیگر افراد کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں)۔
موجودہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور اسے زیادہ مساوی، منصفانہ اور تضادات سے پاک بنانے کے لیے کئی مطالعے (مقامی طور پر اور بین الاقوامی مشیروں کی مدد سے) کیے گئے ہیں، لیکن وہ سب ایف بی آر کے دفاتر میں دھول چاٹ رہے ہیں۔ اب سارا زور قانون کے نفاذ (انفارسمنٹ) پر ہے جس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو حکام کے سخت گیر ہتھکنڈوں اور ریونیو کی وصولی کو زیادہ دکھانے کے لیے اپیلوں کے ذریعے عمل میں تاخیر کرنے پر شدید تحفظات ہیں۔ آج جولائی سے اپریل تک کے شارٹ فال کا تخمینہ 683 ارب روپے لگایا گیا ہے جس کا جون میں مالی سال کے اختتام تک 700 ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا امکان ہے اور حکام اپنے غیر حقیقت پسندانہ اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایڈوانس ٹیکس مانگ رہے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایف بی آر کیلئے ضروری ہے کہ وہ اصلاحات کے حوالے سے سوچ سمجھ کر فیصلے کرے اور انہیں مرحلہ وار نافذ کرے تاکہ تمام خدشات کو بروقت دور کیا جا سکے اور اس دوران جاری اخراجات کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ غیر حقیقت پسندانہ ریونیو اہداف پیدا کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments