تیل کی ادائیگیاں: ایک بار پھر وہی پرانا معاشی بوجھ
مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے شدت اختیار کرنے کے باعث پاکستان کے ہفتہ وار تیل کے درآمدی بل کا تقریباً 800 ملین ڈالر تک پہنچ جانا، ایک بار پھر اس ساختی کمزوری کو بے نقاب کر چکا ہے جس کا بارہا اعتراف تو کیا گیا ہے لیکن اسے دور کرنے کے لیے شاید ہی کبھی سنجیدگی دکھائی گئی ہو۔
فوری اثرات پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا جبکہ ڈیزل کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں، اس طرح عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مقامی قیمتوں میں منتقل کرنے کا وہی جانا پہچانا چکر دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
حکومت کا ردعمل ایک متوقع انداز پر قائم رہا ہے۔ بیرونی دباؤ کا اعتراف، سپلائی میں تعطل سے نمٹنے کی یقین دہانیاں اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ قلیل مدتی تناظر میں یہ ردعمل درست اور ضروری بھی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری اور جنگ بندی کی مدت میں توسیع کی حمایت کے حوالے سے پاکستان کا کردار ایک مثبت اور تعمیری خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
اصل مشکل کہیں اور چھپی ہے۔ ملک تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکوں پر ایسے ردعمل دیتا ہے جیسے ہر بار یہ کوئی انوکھا اور الگ واقعہ ہو، بجائے اس کے کہ اسے ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جائے۔ ہفتہ وار تیل کی ادائیگیوں کا تقریباً 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ جانا محض کسی ایک تنازع کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ درآمدی فوسل فیول (فاسل ایندھن) پر گہری انحصار کی عکاسی کرتا ہے، جو ملکی معیشت کو عالمی منڈیوں میں ہونے والے ہر اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
اس انحصار کی نشاندہی پہلے بھی کی جاچکی ہے جو اکثر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ایسے ہی واقعات کے دوران سامنے آتی ہے۔ ہر بار توانائی ذرائع کو متنوع بنانے، کارکردگی کو بہتر کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی ضرورت کے حوالے سے ایک جیسے خدشات ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن ہر بار قیمتیں مستحکم ہوتے ہی یہ عجلت اور سنجیدگی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ موجودہ صورتحال بتاتی ہے کہ ان اسباق کو مستقل پالیسی اقدامات میں تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے۔
اثرات محض ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرانسپورٹ، پیداواری لاگت اور بالآخر مہنگائی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ اور مالیاتی نظم و نسق میں پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔ مزید برآں، ریونیو اہداف کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، جو بیرونی جھٹکوں اور مقامی معاشی دباؤ کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
بیرونی سرگرمیوں اور داخلی تیاریوں کے درمیان تضاد کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان اس تنازع کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے جو براہ راست اس کی معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے لیکن داخلی محاذ پر ان خطرات کو کم کرنے کے لیے کسی طویل مدتی حکمت عملی کا فقدان نظر آتا ہے جو ایسے تنازعات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ توانائی کی پالیسی کے حوالے سے اعلانات تو مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں زراعت، اسکل ڈیولپمنٹ اور لوکل پروڈکشن جیسے اقدامات شامل ہیں، لیکن فوسل فیول پر انحصار ختم کرنے کے حوالے سے کوئی جامع اور مربوط تبدیلی اب بھی نظر نہیں آتی۔
اس انحصار کو کم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے متبادل توانائی میں سرمایہ کاری، گرڈ انفرااسٹرکچر میں بہتری اور کھپت کے طریقوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ پالیسیوں میں تسلسل بھی ناگزیر ہے۔ قلیل مدتی اقدامات جیسے لیوی میں رد و بدل یا سپلائی کا انتظام، کسی مستقل منتقلی کی حکمت عملی کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔
موجودہ بحران ترجیحات کے ازسرنو جائزے کا ایک اور موقع فراہم کرتا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، مقامی وسائل کا بہتر استعمال اور کارکردگی میں بہتری جیسے تمام ممکنہ حل زیرِ بحث رہے ہیں۔ اصل چیلنج ہمیشہ ان پر عملدرآمد رہا ہے۔ واضح ٹائم لائنز، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور جوابدہی کے بغیر یہ تجاویز محض خواہشات تک ہی محدود رہیں گی۔
پالیسیوں کے مربوط ہونے کا بھی ایک سوال موجود ہے۔ توانائی سے متعلق فیصلوں کو وسیع تر معاشی منصوبہ بندی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ صنعتی ترقی، برآمدات میں مسابقت اور عوامی بہبود، یہ سب توانائی کی قیمت اور اس کی دستیابی کے تسلسل سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایک ایسی حکمت عملی جو درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم کرے، اس کے فوائد متعدد شعبوں میں حاصل ہوں گے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکوں کا بار بار ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل مسئلہ آگاہی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان ہے۔ ہر واقعہ اسی ایک کمزوری کو اجاگر کرتا ہے لیکن اس پر ساختی ردعمل اب بھی نامکمل ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملکی معیشت محدود لچک کے ساتھ ان بیرونی جھٹکوں کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہے۔
موجودہ تنازع میں پاکستان کی سفارتی کوششیں علاقائی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور یہ ایک اہم مقصد ہے لیکن بیرونی استحکام خود بخود داخلی سلامتی میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک کہ اسے ملک کے اندر پالیسی سازی میں تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا جائے۔ فوسل فیول (فاسل ایندھن) پر انحصار کم کرنا ان تبدیلیوں کا مرکزی نقطہ ہے۔
اس معاملے میں عدم توجہی کی قیمت قیمتوں میں اضافے کی حالیہ لہر اور بیرونی کھاتوں پر پڑنے والے دباؤ کی صورت میں پہلے ہی واضح ہے۔ توانائی کی پالیسی میں کسی واضح تبدیلی کے بغیر، تیل کی قیمتوں میں اگلا اضافہ بھی وہی نتائج پیدا کرے گا۔ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ ہر بحران کو عارضی قرار دے کر نظر انداز کرے، جبکہ اس کے پسِ پردہ موجود ساختی کمزوری مستقل نوعیت کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments