ایرانی وزیر خارجہ کی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار چینی ہم منصب سے ملاقات
- ٹرمپ اور شی جن پنگ 14 سے 15 مئی کو بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے معاملے پر ذاتی طور پر تبادلہ خیال کریں گے، بیسنٹ
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو بیجنگ میں چینی ہم منصب سے ملاقات کی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شی جن پنگ سے ملاقات کیلئے طے شدہ دورے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ ایران پر امریکہ۔اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد ان کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس جنگ نے عالمی تاریخ کے شدید ترین تیل سپلائی بحران کو جنم دیا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ ملک چین کی توانائی سلامتی کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین پر زور دیا کہ وہ اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے تاکہ ایران کو قائل کیا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی شپنگ کے لیے کھول دے۔
بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ 14 سے 15 مئی کو بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے معاملے پر خاص طور پر تبادلہ خیال کرینگے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں رہنما اکتوبر میں ہونے والی تجارتی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد امریکہ چین تعلقات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کرینگے۔
انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ اس عالمی اقدام میں ہمارے ساتھ شامل ہو تاکہ آبنائے کو کھولا جاسکے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ بیجنگ کو کون سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس کو اقوامِ متحدہ میں اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بننا بند کرنا چاہیے جن میں آبنائے ہرمز میں تجارتی شپنگ کے تحفظ کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے والی قرارداد بھی شامل ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں امریکہ اور ایران نے خلیج میں نئے حملے کیے کیونکہ دونوں ممالک سمندری ناکہ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے جس سے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی خطرے میں پڑگئی۔
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد دے گی لیکن یہ آپریشن منگل کو ٹرمپ کے اس بیان کے بعد روک دیا گیا کہ ایران کے ساتھ جامع معاہدے کی طرف بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
تہران کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ چین نے حالیہ دنوں میں بھرپور سفارتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا ہے اور جنگ کے حوالے سے امریکی طرزِ عمل پر سخت تنقید سے گریز کیا ہے، تاکہ یہ سربراہی اجلاس (سمٹ) خوش اسلوبی سے منعقد ہو سکے جو پہلے ہی جنگ کی وجہ سے ایک بار ملتوی ہوچکا ہے۔
چین نے بارہا امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور آبنائے ہرمز میں عائد پابندیاں ختم کریں۔ صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں ایران کی شرکت کو یقینی بنانے میں بیجنگ کے کردار کی تعریف کی ہے۔
گزشتہ ہفتے چین نے ایرانی خام تیل کی خریداری پر چینی آئل ریفائنریوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت میں شدت پیدا کر دی۔
چین کی وزارتِ تجارت نے کمپنیوں کو ہداتیت دی کہ وہ پانچ آزاد ریفائنرز کے خلاف امریکی پابندیوں کی تعمیل نہ کریں جن میں حال ہی میں نامزد کردہ ہینگلی پٹرو کیمیکل بھی شامل ہے۔ اس اقدام کے لیے پہلی بار ایک ایسے قانون کا سہارا لیا گیا جو بیجنگ کو ان اداروں کے خلاف جوابی کارروائی کی اجازت دیتا ہے جو ان پابندیوں پر عمل درآمد کرتے ہیں جنہیں چین غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
اینالیٹکس فرم کیپلر کے 2025 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین، ایران کے برآمدی تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے خریدار محدود رہے ہیں جن کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کی فنڈنگ کو روکنا ہے۔
























Comments