لوڈشیڈنگ ختم، پن بجلی کی پیداوار 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، وزیرتوانائی
- ایل این جی کارگو کی آمد کے بعد ایندھن کی بہتر فراہمی سے بجلی کے نظام میں استحکام بحال ہوگیا، اویس احمد خان لغاری
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ (بجلی کی بندش) ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایل این جی کارگو کی آمد کے بعد ایندھن کی بہتر فراہمی سے بجلی کے نظام میں استحکام بحال ہوگیا ہے۔
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو ایک روز قبل ایل این جی کی ترسیل موصول ہو گئی ہے جس سے حکام کے لیے بجلی کی معمول کے مطابق فراہمی بحال کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
ویڈیو پیغام میں اویس احمد خان لغاری نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 13 اپریل سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی مختلف صورتحال رہی جس کا دورانیہ پہلے 5 گھنٹے تک پہنچا اور پھر بڑھ کر تقریباً 7 گھنٹے تک چلا گیا جس کے بعد اب اسے کم ترین سطح پر لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی کمی (شارٹ فال) نظام کی خرابی یا تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ ایندھن کی فراہمی میں کمی کے باعث تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ کی وجہ سے ہم بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار گیس حاصل کرنے میں ناکام رہے، اگر ہم ڈیزل یا فرنس آئل سے بجلی پیدا کرتے تو یہ بہت مہنگی ہوتی جس کا براہِ راست بوجھ ہمارے صارفین پر پڑتا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ گیس کی اضافی سپلائی جو کہ اسپاٹ ریٹس پر خریدی گئی تھی پہنچ چکی ہے۔
مزید برآں ملک میں پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے جو تقریباً 1,000 میگاواٹ سے بڑھ کر اب 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 32,000 میگاواٹ ہے اور عوام میں اس سے زیادہ اعدادوشمار کے بارے میں گردش کرنے والے دعوے درست نہیں ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایندھن کی بہتر دستیابی اور بروقت اقدامات کے باعث ملک کو دوبارہ طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ اب دوبارہ پچھلی سطح پر نہیں جائے گی۔

























Comments