تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے ای او آئیز ستمبر تک مؤخر
- پہلے مرحلے میں حکومت آئیسکو، گیپکو اورفیسکو کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نجکاری کمیشن کے بورڈ کا اجلاس بدھ کے روز متوقع ہے، جس میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئیز) کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ یہ عمل پہلے رواں سال کے لیے طے تھا تاہم اب اسے ستمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیر صدارت وزارتِ نجکاری میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسکوز کی مجوزہ نجکاری سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
پہلے مرحلے میں حکومت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاور ڈویژن اور نجکاری ڈویژن نے پہلے وزیراعظم اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کمپنیوں کے لیے ای او آئیز اپریل 2026 میں جاری کیے جائیں گے، تاہم اب پاور ڈویژن نے تسلیم کیا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ عمل ستمبر 2026 تک مؤخر ہو گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے یہ عمل موجودہ مالی سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا تھا۔
ذرائع کے مطابق نجکاری ڈویژن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک قابلِ عمل بزنس ماڈل پیش کیا جائے جبکہ صارفین کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے۔
امکان ہے کہ سرمایہ کاروں نے بجلی کے صارفین کے ٹیرف سے متعلق وضاحتیں طلب کی ہیں اور یکساں ٹیرف نظام کے تسلسل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض سرمایہ کاروں نے ڈالر سے منسلک ٹیرف میکانزم متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ہے۔
پاکستان ترکیہ کو ایک وفد بھیجنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہاں کے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے ماڈل کا جائزہ لیا جا سکے، جس کا مقصد نقصانات میں کمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ہے۔
دوسرے مرحلے میں حکومت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیسکو) کو نجکاری کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بورڈ سے توقع ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے ٹرانزیکشن اسٹرکچر اور ری اسٹرکچرنگ پلان کی بھی منظوری دی جائے گی، اس کے علاوہ مجموعی نجکاری پروگرام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments