نیپرا کا 25 کلو واٹ تک سولر سسٹمز پر فیس ختم کرنے کا فیصلہ
- یہ اقدام اس پیشرفت کے دو روز بعد سامنے آئی ہے جب پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم سسٹمز والے سولر صارفین کے لیے درخواست فیس ختم کی جائے اور لائسنس کی شرط ختم کی جائے۔
قومی بجلی کے ضابطہ ساز ادارے ( نیپرا ) نے منگل کو 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز رکھنے والے صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی، جو گھروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قابل تجدید توانائی اختیار کرنے میں آسانی فراہم کرے گا۔
ادارہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ چھوٹے سولر صارفین سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔

یہ اقدام اس کے دو دن بعد سامنے آیا ہے جب پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم سسٹمز والے سولر صارفین کے لیے درخواست فیس ختم کی جائے اور لائسنس کی شرط ختم کی جائے۔ پاور ڈویژن نے نیپرا سے کہا کہ وہ 2015 کے فریم ورک پر واپس آئے، جس کے تحت 25 کلو واٹ اور اس سے کم سسٹمز والے صارفین لائسنس اور فیس سے مستثنیٰ تھے اور درخواستیں براہِ راست پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز ( ڈسکوز) کے ذریعے نمٹائی جاتی تھیں۔
تاہم، حال ہی میں نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کے قواعد سخت کرتے ہوئے نئے صارفین کے لیے لائسنس کی منظوری لازمی قرار دی تھی، چاہے سسٹم کا سائز کچھ بھی ہو۔ مزید برآں، درخواست جمع کرانے کے لیے 1000 روپے فی کلو واٹ کی فیس مقرر کی گئی تھی۔
اس فیصلے پر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شدید تنقید ہوئی، جس کے بعد حکومت نے 2015 کے قوانین پر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔
پاور ڈویژن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ”وزیر برائے پاور سردار اویس احمد خان لاغری کی خصوصی ہدایت اور پاور ڈویژن کی درخواست پر، قومی بجلی کے ضابطہ ساز ادارے نے 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت والے سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی۔ شکریہ، نیپرا۔“
نیپرا کی ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، 25 کلو واٹ سے زیادہ کے سولر صارفین سے فی کلو واٹ 1000 روپے بطور ایک مرتبہ فیس وصول کی جائے گی۔
یہ نوٹیفکیشن 9 فروری 2026 سے موثر ہوگی۔
حالیہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان نے گزشتہ پانچ سال میں تقریباً 50 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے، جن کی متوقع لاگت تقریباً 18 ارب ڈالر تھی، یعنی یہ حجم ملک کی مجموعی بجلی کی گرڈ صلاحیت کے برابر ہے۔
تحقیق کے مطابق قابل تجدید توانائی کے اس دھماکے نے ملک میں 70 لاکھ گھروں اور متعدد کاروباروں کو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے محفوظ رکھا ہے۔
























Comments