اسپیکر پنجاب اسمبلی نے زرعی ٹیکس نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا
- ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف منتخب اسمبلی کے پاس ہے، ملک محمد احمد خان
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ایک تاریخی فیصلے میں ایگزیکٹو آرڈر کے تحت جاری کیے گئے زرعی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے فلور پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اسپیکر نے واضح کیا کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف منتخب اسمبلی کے پاس ہے اور یہ اختیار کسی بھی سرکاری افسر یا انتظامی اتھارٹی کو حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایگزیکٹو اتھارٹی، بشمول سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کسی بھی قسم کا ٹیکس عائد کرنے کا حق نہیں رکھتی، اور ایسے نوٹیفکیشن پنجاب اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی ہیں۔
اسپیکر ملک محمد احمد خان نے مزید ہدایت کی کہ قانون سازی سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی تمام ایسے ٹیکسز کا جائزہ لے جو ایگزیکٹو اتھارٹیز کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، اور قانونی کمیٹی 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے۔
فیصلے کے بعد اسمبلی کے اراکین نے اسپیکر کے اقدام کو سراہتے ہوئے ڈیسک بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔
پنجاب اسمبلی نے یہ بھی واضح کیا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں کسی بھی تبدیلی کو قانون کے مطابق بجٹ کے وقت اسمبلی میں پیش کرنا لازمی ہے، تاہم مالی سال 2025-26 کے بجٹ سیشن میں متعلقہ نوٹیفکیشن پیش نہیں کیے گئے۔ اس بنا پر ٹیکس کی شرح میں تبدیلی سے متعلق تمام نوٹیفکیشنز کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ ان نرخوں کے تحت کی گئی تمام ٹیکس وصولیاں اور اقدامات کو بھی غیر قانونی اور اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 51 منٹ تاخیر سے شروع ہوا اور اس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments