امریکہ ایران مذاکرات کی امید پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ کروڈ فیوچرز 1.04 ڈالر یا 1.1 فیصد کی کمی سے 94.44 ڈالر فی بیرل پر آگئے
خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو ایک ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی جس سے گزشتہ سیشن میں ہونے والا اضافہ زائل ہو گیا۔ قیمتوں میں اس گراوٹ کی وجہ یہ توقعات ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رواں ہفتے امن مذاکرات ہوں گے جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم پیداواری خطے سے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 1.04 ڈالر یا 1.1 فیصد کی کمی سے 94.44 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے مئی کے سودے 1.66 ڈالر یا 1.9 فیصد گر کر 87.95 ڈالر ریکارڈ کئے گئے ۔
مئی کا کنٹریکٹ منگل کو ختم ہو رہا ہے جبکہ زیادہ فعال جون کے کنٹریکٹ کی قیمت 1.24 ڈالر یا 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 86.18 ڈالر پر آ گئی۔
یاد رہے کہ پیر کو دونوں بینچ مارکس (خام تیل کی قیمتوں) میں زبردست اضافہ دیکھا گیا تھا جس میں برینٹ 5.6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 6.9 فیصد مہنگا ہوا تھا۔ یہ تیزی ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایران کے ایک مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد سامنے آئی تھی۔
تاہم سرمایہ کار اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں موجودہ جنگ بندی میں توسیع یا کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے، اگرچہ مزید تنازعات اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
ادھر آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے، میں جہازرانی کی سرگرمیاں محدود رہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تعطل ایک ماہ تک برقرار رہا تو تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں اور سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
کویت نے بھی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل پر فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بڑھتی قیمتوں کے سبب عالمی طلب میں تقریباً 3 فیصد کمی آ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق مکمل بحالی اب 2026 کے آخر تک ہی ممکن نظر آتی ہے۔




















Comments