ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.34 ڈالر یا 1.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 98.05 ڈالر فی بیرل تک آ گیا
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز ابتدائی تجارت کے دوران کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدیں ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی پیشکش نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.34 ڈالر یا 1.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 98.05 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.65 ڈالر یا 1.74 فیصد سستا ہو کر 93.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جس سے گزشتہ سیشن کے کچھ فوائد کم ہو گئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ سنبھالتی ہے، گزشتہ سات ہفتوں سے بند ہے۔ اس بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ تہران نے 20 سال سے زائد عرصے تک جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کے امکانات روشن ہیں اور دونوں ممالک جلد کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مارچ کے مہینے میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں یہ قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں اور رواں ہفتے کے دوران 90 ڈالر کی سطح پر برقرار رہیں۔
ادھر ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یومیہ تقریباً 13 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔



















Comments