روس کی ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی پیشکش
- صدر پیوٹن کی امریکہ اور علاقائی ممالک سے رابطوں میں اہم تجویز
کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روس، امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن معاہدے کے تحت ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد روس کی جانب سے یہ پیشکش جوہری کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ رابطوں میں یہ تجویز پیش کی ہے، جو اب بھی برقرار ہے۔
روس کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری ذخائر کی منتقلی سے خطے میں استحکام آسکتا ہے۔ مزید برآں روس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر بھی تنقید کی ہے۔ پیسکوف کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے بین الاقوامی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور عالمی معیشت میں ہیجان بڑھے گا۔

























Comments