BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.43 Increased By ▲ 0.21 (0.37%)
BIPL 24.65 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.17 Decreased By ▼ -0.08 (-0.27%)
CNERGY 12.50 Increased By ▲ 0.11 (0.89%)
DFML 16.45 Decreased By ▼ -0.15 (-0.9%)
DGKC 184.60 Decreased By ▼ -0.92 (-0.5%)
FABL 92.35 Decreased By ▼ -0.32 (-0.35%)
FCCL 52.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.1%)
FFL 14.15 Increased By ▲ 0.14 (1%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.15 (0.78%)
HBL 296.60 Decreased By ▼ -3.26 (-1.09%)
HUBC 200.74 Increased By ▲ 1.07 (0.54%)
HUMNL 9.40 Increased By ▲ 0.09 (0.97%)
KEL 6.07 Increased By ▲ 0.11 (1.85%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.25 (-0.94%)
MLCF 90.82 Decreased By ▼ -0.13 (-0.14%)
OGDC 306.50 Decreased By ▼ -2.16 (-0.7%)
PAEL 34.05 Increased By ▲ 0.32 (0.95%)
PIBTL 13.59 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
PIOC 235.05 Decreased By ▼ -1.56 (-0.66%)
PPL 219.40 Increased By ▲ 1.05 (0.48%)
PRL 92.90 Increased By ▲ 1.78 (1.95%)
SNGP 90.64 Decreased By ▼ -0.60 (-0.66%)
SSGC 23.10 Increased By ▲ 0.06 (0.26%)
TELE 7.19 Increased By ▲ 0.02 (0.28%)
TPLP 12.40 Increased By ▲ 0.60 (5.08%)
TRG 55.24 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
UNITY 7.68 Increased By ▲ 0.03 (0.39%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات کے بعد خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

  • برینٹ کروڈ کی قیمت 83 سینٹ اضافے کے ساتھ 96.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعہ کے روز ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے، حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 83 سینٹ اضافے کے ساتھ 96.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) ایک ڈالر 4 سینٹ بڑھ کر 98.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پر منڈی میں کچھ سکون آیا تھا، مگر جلد ہی خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا۔

پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اس جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق مختلف نظر آ رہے ہیں، کیونکہ اعلان کے بعد بھی جھڑپیں جاری رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تمام نظریں اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر مرکوز ہیں، خاص طور پر پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات سے قبل صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے، جس کی مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی نے مخالفت کی ہے۔ یہ اہم گزرگاہ، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع کے بعد عملاً بند ہے۔

توانائی ماہر جان پیسی کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل موجودہ سطح پر محدود رہی تو قیمتیں 190 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جبکہ جزوی بحالی کی صورت میں بھی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی بلند رہیں گی۔

دوسری جانب سعودی عرب کی تیل پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملوں کے باعث یومیہ 600,000 بیرل پیداوار کم ہو گئی ہے جبکہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل میں 700,000 بیرل یومیہ کی کمی آئی ہے۔ جے پی مورگن کے مطابق خلیج میں تقریباً 50 تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور 2.4 ملین بیرل یومیہ ریفائننگ صلاحیت بند ہو چکی ہے، جس سے سپلائی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

Comments

Comments are closed.