پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی،انڈیکس میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ
- 100 انڈیکس 165,811 پوائنٹس پر بند، یہ تاریخ کا ایک روز کا سب سے بڑا اضافہ ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کیلئے بدھ کا روز تاریخی ثابت ہوا جہاں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر سرمایہ کاروں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔
جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھی منڈیوں میں تیزی کی لہر دوڑ گئی جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور امریکہ، یورپ اور ایشیا بھر کے حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی۔
اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز انتہائی مثبت انداز میں ہوا اور ابتدائی چند منٹوں میں ہی انڈیکس 12,362.38 پوائنٹس یا 8.15 فیصد اضافے سے 164,035.83 کی سطح پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ میں 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد صبح 9 بجکر 37 منٹ پر مارکیٹ ہالٹ نافذ کردیا گیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ تمام ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کے ایس ای-30 انڈیکس میں گزشتہ کاروباری دن کے اختتام کے مقابلے میں 5 فیصد اضافے کے باعث پی ایس ایکس ریگولیشنز کے تحت مارکیٹ ہالٹ نافذ کر دیا گیا اور اسی کے مطابق تمام ایکویٹی مارکیٹس معطل کردی گئی ہیں۔

مارکیٹ میں دوبارہ تجارت کا آغاز صبح 10:42 بجے ہوا۔
جیسے جیسے سیشن آگے بڑھا مارکیٹ میں جارحانہ خریداری کے باعث انڈیکس مسلسل اوپر کی جانب گامزن رہا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 165,924 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح کو چھولیا۔
کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 14,138 پوائنٹس یا 9.32 فیصد اضافے سے 165,811 پوائنٹس پر بند ہوا، یہ تاریخ کا بلند ترین ایک روزہ اضافہ ہے۔
بہتری کیپٹل نے بدھ کو کہا کہ آج کا دن شارٹ سیلرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب اور خریداروں کے لیے جنت ثابت ہوا۔
بہتری کیپیل نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ بندی عارضی ہے، لیکن قرضوں کی واپسی میں کامیابی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے امتزاج نے انڈیکس کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔
دریں اثنا جے ایس گلوبل میں ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ پاک-امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے جذبات میں اچانک مثبت تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کی بنیاد پر آنے والی اس تیزی نے جہاں ایک طرف مارکیٹ سے رسک پریمیم (خطرہ مٹنے) کے تیزی سے خاتمے کو نمایاں کیا ہے وہیں مارکیٹ میں موجود آگے بڑھنے کی چھپی ہوئی بھرپور صلاحیت کو بھی واضح کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد منگل کو کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، یہ اعلان تہران کو دی گئی اس ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے قبل سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے ورنہ اسے اپنے سویلین انفرااسٹرکچر (شہری ڈھانچے) پر وسیع پیمانے پر حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ دو طرفہ جنگ بندی ہو گی! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں اور ہم ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور تمام تنازعات کے تصفیے کے لیے حتمی معاہدے پر مزید مذاکرات کی خاطر امریکہ اور ایران کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو ایک بار پھر اتار چڑھاؤ سے بھرپور تجارتی سیشن دیکھا گیا جہاں 100 انڈیکس ایک طویل اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر مثبت زون میں بند ہوا۔ سیشن کے آخری لمحات میں جنگ بندی کی پیش رفت سے وابستہ امیدوں کے باعث ہونے والی خریداری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔
منگل کوبینچ مارک 100 انڈیکس 465.64 پوائنٹس یا 0.31 فیصد اضافے سے 151,673.46 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو بھارتی حصص کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ عالمی منڈیوں میں آنے والی تیزی تھی۔ یہ تیزی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب ریزرو بینک آف انڈیا کے پالیسی فیصلے پر مرکوز ہے، مارکیٹیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث برقرار غیر یقینی صورتحال کے درمیان ترقی اور افراطِ زر کے حوالے سے اپ ڈیٹ شدہ پیش گوئیوں کا گہری نظر سے مشاہدہ کررہی ہیں۔
ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 9:39 بجے تک نفٹی 50 انڈیکس 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 23,906.20 کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ سینسیکس 3.57 فیصد اضافے کے ساتھ 77,273.75 کی سطح پر آگیا۔
دیگر ایشیائی منڈیوں میں 4.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ خام تیل کی قیمتیں گر کر 95 ڈالر فی بیرل پر آگئیں، یہ کمی ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے روک دے گا اور یہ کہ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
اس پیش رفت نے مستقبل قریب میں تنازع کے مزید شدت اختیار کر جانے کے خدشات کو کم کر دیا ہے جن کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں۔ قیمتوں میں اس اضافے سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک، بھارت کی معیشت، کارپوریٹ منافع اور مالیاتی منڈیوں کے لیے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔






















Comments