مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کی ناکامی، عالمی سطح پر ڈالر کی قدر مزید بڑھ گئی
- جاپانی ین فی ڈالر 160 کی سطح کے قریب پہنچ کر 159.61 پر موجود، یورو معمولی کمی کے ساتھ 1.1525 ڈالر پر آگیا
ڈالر کی قدر میں جمعہ کو مزید اضافہ ہوا اور یہ کئی مہینوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی جنگ اور تناؤ میں کمی کے کسی بھی راستے پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔
ایک اور اتار چڑھاؤ بھرے ہفتے کے بعد مارکیٹیں سخت بے چینی کا شکار رہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں ایک بار پھر اپریل تک توسیع کردی ہے، اگرچہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سفارتی پیشرفت کے بارے میں مکمل طور پر متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جنرل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں 10,000 تک اضافی زمینی فوج بھیجنے پر بھی غور کررہا ہے۔ اس خبر نے جنگ کے فوری خاتمے کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی امیدوں کو تقویت دینے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔
اس صورتحال نے ڈالر کی طلب کو برقرار رکھا کیونکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ سمجھی جانے والی اس کرنسی کا رخ کیا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافے سے پیدا ہونے والے افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ کے باعث، سال کے آخر تک امریکی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔
دوسری جانب جاپانی ین فی ڈالر 160 کی سطح کے قریب پہنچ کر 159.61 پر کھڑا ہے جبکہ یورو معمولی کمی کے ساتھ 1.1525 ڈالر پر آگیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.3325 ڈالر پر آگیا۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹیجسٹ ’کیرول کونگ‘ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ جب تک یہ جنگ جاری ہے ڈالر ہی بادشاہ رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس تنازع کے طویل ہونے کے بارے میں ہمارا اندازہ درست ثابت ہوا تو میرے خیال میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا، جو ڈالر کو مزید اوپر لے جائے گا۔ اس کا خمیازہ توانائی کے خالص درآمد کنندگان جیسے کہ جاپانی ین اور یورو کو بھگتنا پڑے گا۔
مارکیٹ کے بگڑتے ہوئے حالات نے خطرے سے حساس آسٹریلوی ڈالر کو دو ماہ کی نچلی ترین سطح 0.68722 ڈالر پر دھکیل دیا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر بھی جنوری کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب 0.15 فیصد کمی کے ساتھ 0.5754 ڈالر پر رہا۔
عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کا انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.93 پر رہا، تاہم یہ رواں ماہ 2.3 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو گزشتہ سال جولائی کے بعد اس کی سب سے بڑی ماہانہ ترقی ہو گی۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کار اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس (0.25 فیصد) اضافے کے 46 فیصد امکانات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال جنگ سے پہلے کی توقعات کے بالکل برعکس ہے، جب شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس سے زائد کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔
بینک آف انگلینڈ اور یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے بھی پالیسی کو مزید سخت کیے جانے کے آثار ہیں۔ شرحِ سود میں اضافے کے اس جارحانہ رجحان نے بانڈ مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بانڈ ییلڈز میں اضافہ کر دیا ہے۔
کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ توانائی کی فراہمی میں طویل مدتی تعطل معاشی سرگرمیوں کو بڑا دھچکا پہنچائے گا جو عالمی کساد بازاری کی تعریف پر پورا اترے گا اور مانیٹری پالیسی کو مزید سخت (شرحِ سود میں اضافہ) کرنے کے ایک وسیع تر سلسلے کا باعث بنے گا۔
جمعرات کو ہونے والے تیزی سے اضافے کے بعد جمعہ کو امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز مستحکم رہیں۔ دو سالہ بانڈ کی ییلڈ 3.9776 فیصد رہی جبکہ دس سالہ بینچ مارک بانڈ کی ییلڈ معمولی کمی کے ساتھ 4.4097 فیصد پر آگئی۔






















Comments