کیوبا نے اس قسم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اس کا سیاسی نظام یا اس کے صدر کی مدتِ ملازمت بحث کا موضوع بن سکتے ہیں۔ یہ ردعمل ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق واشنگٹن کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کررہا تھا۔
نائب وزیر خارجہ کارلوس فرنینڈس ڈی کوسیو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کی دوٹوک تصدیق کر سکتا ہوں کہ کیوبا کا سیاسی نظام مذاکرات کا حصہ نہیں اور ظاہر ہے کہ نہ ہی صدر اور نہ ہی کیوبا کے کسی عہدیدار کا عہدہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا موضوع ہو سکتا ہے۔
کیوبا نے ایک ہفتہ قبل بتایا تھا کہ اس نے امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ تیل کی ناکہ بندی اس کمیونسٹ ملک کو مزید گہرے معاشی بحران میں دھکیل رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک خود مختار پڑوسی ملک کیوبا کے ساتھ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
بعد ازاں کیوبا کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لانے والے غیر ملکی کارکنوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا ممکنہ امریکی جارحیت کے لیے تیاریاں کررہا ہے۔
حالیہ دنوں میں مزید سخت اور للکارنے والا لہجہ اختیار کرنے والے صدر ڈیاز کانیل کا کہنا تھا کہ ہم صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ کیوبا کے خلاف جارحیت ہو سکتی ہے۔
یو ایس اے ٹوڈے نے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں سے واقف دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، کیوبا کے اعلان سے قبل یہ رپورٹ دی کہ ٹرمپ کیوبا کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہے تھے جس کے تحت تجارتی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی لیکن اس میں ڈیاز کانیل کے لیے اقتدار سے علیحدگی (آف ریمپ) کا راستہ بھی شامل ہوگا۔
نیویارک ٹائمز نے ان مذاکرات سے باخبر چار افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بعد ازاں یہ رپورٹ دی کہ ٹرمپ انتظامیہ ڈیاز کانیل کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ ان کی بطور صدر مدتِ ملازمت میں دو سال اور کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے طور پر پانچ سال باقی ہیں۔
دونوں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی تجویز میں سابق صدور فیدل اور راؤل کاسترو کے خاندان کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ فیدل کاسترو کا انتقال 2016 میں ہوا تھا، تاہم 94 سالہ راؤل کاسترو، ڈیاز کانیل (65 سالہ) کو صدارت سونپنے کے آٹھ سال بعد بھی بدستور انتہائی بااثر شخصیت ہیں۔






















Comments