15واں پانچ سالہ منصوبہ پاک چین تعاون کو نئی جِلا بخش رہا ہے
- نیشنل پیپلز کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس چینی سیاسی کیلنڈر میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں
عوامی جمہوریہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 2026 کے دوران دو سالانہ اجلاس منعقد ہوئے۔ نیشنل پیپلز کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس چینی سیاسی کیلنڈر میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں، یہ دو اجلاس نہ صرف گزشتہ سال کی کامیابیوں کے جائزے اور مستقبل کی ترقی کا خاکہ پیش کرنے کا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے کی تشکیل اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ کے لیے اہم میکانزم کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
مذکورہ دو اجلاسوں کے دوران چین کی قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے پر غور و خوض کیا گیا اور اسے منظور کر لیا گیا۔
عوامی جمہوریہ چین نے اپنے قیام کے بعد سے قومی ترقی کی رہنمائی کے لیے درمیانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو کلیدی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا ہے۔ اس تسلسل میں پالیسی کی واضح سمتوں کا تعین، ترقیاتی اہداف کا قیام اور اصلاحات کے راستوں کی وضاحت شامل رہی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 14 پانچ سالہ منصوبے کامیابی سے نافذ کیے جا چکے ہیں۔
14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین کی معاشی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ہے، اس عرصے میں ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) نے بالترتیب 110، 120، 130 اور بالآخر 140 ٹریلین آرایم بی کی حدوں کو عبور کیا۔ 5.4 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو کے ساتھ ، جو کہ عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، چین نے اپنی اقتصادی، تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
سال 2026 اس سفر میں ایک اہم موڑ ہے کیونکہ یہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے۔ یہ منصوبہ معاشی، تکنیکی، ماحولیاتی اور سماجی شعبوں میں جامع پالیسیوں کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ اس کے بنیادی مقاصد میں اعلیٰ معیار کی ترقی، تکنیکی خود انحصاری میں اضافہ، جامع اصلاحات میں نئی کامیابیاں، سماجی تہذیب کی بہتری اور خوبصورت چین کی تعمیر میں بڑی پیش رفت جیسے اہداف شامل ہیں۔ یہ خاکہ نہ صرف اگلے پانچ برس کے لیے ہے بلکہ یہ 2035 تک کے اس طویل المدتی وژن کا حصہ ہے جس کے تحت چین اپنی فی کس جی ڈی پی کو معتدل ترقی یافتہ ممالک کی سطح تک لانے اور سوشلسٹ جدیدیت کو بنیادی طور پر حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
2026 کی حکومتی ورک رپورٹ میں اس نئے منصوبے کے مضبوط آغاز پر زور دیا گیا ہے۔اگر 2025 کا جائزہ لیا جائے تو چین کی جی ڈی پی میں 5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 140.19 ٹریلین آرایم بی تک پہنچ گئی، جس نے عالمی معاشی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالا۔ 2026 کے لیے حکومت نے پانچ اہم شعبوں میں 20 اہداف مقرر کیے ہیں، جن میں 4.5 سے 5 فیصد کی متوقع جی ڈی پی شرح نمو، صارفین کی قیمتوں کے انڈیکس (سی پی آئی) میں تقریباً 2 فیصد اضافہ، اناج کی پیداوار تقریباً 1.4 ٹریلین جن، اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے اخراجات میں 7 فیصد سے زائد کا سالانہ اوسط اضافہ شامل ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نئی توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی، مجسم ذہانت، دماغی مشین انٹرفیس اورسکس جی نیٹ ورکس جیسی مستقبل کی صنعتوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ ان کوششوں کو تقویت دینے کے لیے حکومت نے آلات کی اپ گریڈیشن کے لیے 200 بلین آرایم بی کے خصوصی قومی بانڈز اور صارفین کے سامان کی تبدیلی کے پروگراموں کے لیے 250 بلین آرایم بی مختص کیے ہیں، تاکہ ترقی کا سفر مقدار سے معیار کی طرف چھلانگ لگا سکے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین کے یہ دو اجلاس دنیا کو ایک پختہ عزم کا پیغام دیتے ہیں۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت آزادانہ اوپننگ اپ کو فعال طور پر بڑھانا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی اعلیٰ معیاری تعمیر جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین کے دروازے بیرونی دنیا کے لیے مزید وسعت کے ساتھ کھل رہے ہیں۔ یہ اسٹریٹجک اقدامات واضح کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ شراکت داری عالمی برادری کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے اور وسیع مواقع فراہم کرے گی۔






















Comments