BR100 Decreased By (-0.05%)
BR30 Decreased By (-0.03%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.75 Increased By ▲ 0.28 (0.5%)
BIPL 24.87 Increased By ▲ 0.24 (0.97%)
BOP 30.15 Increased By ▲ 0.03 (0.1%)
CNERGY 12.93 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
DFML 18.14 Increased By ▲ 0.65 (3.72%)
DGKC 187.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.19 (0.37%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 304.37 Increased By ▲ 0.59 (0.19%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.86 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.01 (-0.17%)
LOTCHEM 26.49 Increased By ▲ 0.32 (1.22%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -0.23 (-0.25%)
OGDC 314.01 Increased By ▲ 0.62 (0.2%)
PAEL 35.18 Decreased By ▼ -0.06 (-0.17%)
PIBTL 14.69 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 238.00 Decreased By ▼ -1.62 (-0.68%)
PPL 220.50 Decreased By ▼ -0.86 (-0.39%)
PRL 91.84 Increased By ▲ 0.62 (0.68%)
SNGP 90.85 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.13%)
TPLP 12.63 Increased By ▲ 0.07 (0.56%)
TRG 55.85 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
UNITY 8.04 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کھیل

کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں آئی پی ایل، دی ہنڈریڈ اور ایس اے 20 سے پیچھے، ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن

  • ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جمعرات کو جاری رینکنگ میں آئی پی ایل62.6 پوائنٹس کے ساتھ 10 لیگز میں تیسرے نمبر پر، انگلینڈ کی دی ہنڈریڈ (75.2) اور جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 (68) سے پیچھے
شائع اپ ڈیٹ

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) مالیاتی اعتبار سے بہت بڑا نام ہے، جس نے دنیا بھر میں فرنچائز کرکٹ کا جال بچھایا لیکن کھلاڑیوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے معاملے میں یہ اب بھی بہتری کی گنجائش رکھتی ہے۔ ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) کی حالیہ درجہ بندی میں آئی پی ایل 62.6 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ انگلینڈ کی دی ہنڈریڈ (75.2) پہلے اور جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 (68) دوسرے نمبر پر ہے۔

دنیا کے اس امیر ترین ٹورنامنٹ نے کھلاڑیوں کے اوسط معاوضے اور ادائیگیوں کی شفافیت میں تو بہترین پوائنٹس حاصل کیے، لیکن تنظیم سازی کے حق اور تنازعات کے حل جیسے شعبوں میں یہ پیچھے رہ گیا۔ ڈبلیو سی اے کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفٹ کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک لیگز کی ترقی کھیل کے لیے مثبت ہے مگر کھلاڑیوں کے تحفظ اور معیارات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

رپورٹ میں بھارتی بورڈ کی اس پالیسی پر بھی تنقید کی گئی ہے جس کے تحت وہ اپنے کھلاڑیوں کو دیگر عالمی لیگز میں شرکت سے روکتا ہے۔ آئی پی ایل کا 19 واں ایڈیشن 28 مارچ سے شروع ہو رہا ہے، جہاں دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلور اور سن رائزرز حیدرآباد مدمقابل ہوں گے۔

Comments

Comments are closed.