امریکی انٹیلیجنس چیف کا دعویٰ اسٹریٹجک حقیقت کے منافی ہے، سابق وزیر خارجہ
سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گیبارڈز کا سینیٹ میں یہ دعویٰ کہ امریکی سرزمین پاکستان کے ایٹمی اور دیگر میزائلوں کی زد میں ہے اسٹریٹجک حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
جلیل عباس جیلانی نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کی جوہری حکمت عملی بھارت کیلئے مخصوص ہے جس کا مقصد جنوبی ایشیا میں قابلِ اعتماد ہتھیاروں کے ذریعے توازن قائم رکھنا ہے نہ کہ عالمی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کرنا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب محض ایک روز قبل امریکہ نے پاکستان کو ان 5 ممالک میں شامل کیا جو اس کیلئے اہم سکیورٹی خدشات کا باعث ہیں جب کہ امریکی انٹیلیجنس چیف نے یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسا میزائل نظام تیار کررہا ہے جو ممکنہ طور پر امریکی سرزمین تک پہنچ سکتا ہے۔
سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے اظہارِ خیال کرتے ہوئے تلسی گیبارڈز نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ملکر ایسے مختلف میزائل ڈلیوری سسٹمز کو جدید بنارہا ہے جن میں روایتی اور ایٹمی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ممالک ایسے جدید ترین یا روایتی میزائل سسٹمز پر کام کررہے ہیں جو امریکی سرزمین کو اپنی زد میں لا سکتے ہیں۔
اس جائزے میں یہ الزامات بھی شامل تھے کہ پاکستان بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) نظام پر کام کررہا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید کوئی تکنیکی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئیں۔
امریکی حکام نے چین اور روس کو براہِ راست چیلنج قرار دیا جس کی وجہ ان کی جانب سے ایسے جدید دفاعی نظام کی تیاری ہے جو امریکی سلامتی کو کمزور کرسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی چین کو ایک بڑے حریف کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے جس سے اسٹریٹجک دشمنی میں مزید شدت آ گئی ہے۔

























Comments