رواں مالی سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 51 فیصد کمی
- مالی سال 26 کے جولائی تا جنوری کے دوران خالص ایف ڈی آئی کی مالیت 694 ملین امریکی ڈالر رہی
پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران 51 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 26 کے جولائی تا جنوری کے دوران خالص ایف ڈی آئی کی مالیت 694 ملین امریکی ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (مالی سال 25) میں 1.429 ارب ڈالر تھی۔ اس طرح 735 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
زیرِ جائزہ مدت میں مجموعی سرمایہ کاری کی آمد 2.1 ارب ڈالر رہی جبکہ اخراج 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی ایف ڈی آئی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور جنوری 2026 میں یہ 51 فیصد کم ہو کر 111 ملین ڈالر رہ گئی، جو جنوری 2025 میں 226 ملین ڈالر تھی۔
دریں اثنا پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا، جہاں مالی سال 26 کے پہلے سات ماہ کے دوران 287 ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا، جو مقامی ایکویٹی اور قرضہ مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تسلسل سے اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی صورتحال اور ملکی میکرو اکنامک ایڈجسٹمنٹس غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاکستان کے حوالے سے اعتماد پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے طویل المدتی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری، جس میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور غیر ملکی عوامی سرمایہ کاری شامل ہے، مالی سال 26 کے جولائی تا جنوری کے دوران 65 فیصد کم ہوگئی۔ اس عرصے میں سرمایہ کاری کی آمد 967 ملین ڈالر کم ہو کر 517 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 1.484 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
دوسری جانب روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے تحت ستمبر 2020 میں آغاز سے لے کر جنوری 2026 تک مجموعی طور پر 11.923 ارب ڈالر کی آمد ہو چکی ہے۔ جنوری 2026 میں آر ڈی اے کے تحت موصول ہونے والی رقوم میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اس سے گزشتہ ماہ 213 ملین ڈالر تھیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments