بجلی نرخ پر نظرِ ثانی، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری
- پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی قیمتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتے کو رائٹرز کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں مجوزہ نظرِثانی پر تبادلہ خیال کررہا ہے تاہم فنڈ نے مزید کہا کہ اس ردّ و بدل کا بوجھ متوسط یا کم آمدن والے گھرانوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکام کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا بجلی کے نرخوں میں مجوزہ نظرِ ثانی (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ کیے گئے) وعدوں کے مطابق ہے یا نہیں اور افراطِ زر سمیت مجموعی معاشی استحکام پر ان کے ممکنہ اثرات کو پرکھا جائے گا۔
پاکستان نے بجلی کے نرخوں میں ایک جامع تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے صنعت پر دباؤ کم ہوگا لیکن ساتھ ہی مہنگائی میں اضافہ بھی ہوگا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب پاکستان اپنے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت عائد شرائط کو پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اس پروگرام کا ایک اور جائزہ قریب ہے۔
ای ایف ایف آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے جسے ممالک کی گہری معاشی کمزوریوں کو دور کرنے اور ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے درمیانی مدت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دینے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی قیمتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ بجلی نرخ میں کوئی بھی تبدیلی ایک ایسے وقت میں انتہائی حساس معاملہ ہے جب مہنگائی اگرچہ 2023 کی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اب نمایاں طور پر کم ہے لیکن اب بھی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کا شعبہ توانائی طویل عرصے سے گردشی قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، ڈسٹری بیوٹرز اور حکومت کے درمیان واجب الادا بلوں اور سبسڈیوں کا ایک ایسا تسلسل ہے جو بڑھتا چلا جاتا ہے اور اسی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے تحت بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ کیا جارہا ہے۔






















Comments