نئے ضوابط قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے خطرہ ہیں، تاجر برادری کی تنبیہ
- نئے قوانین سے سولر اور دیگر گرین انرجی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے
تاجر برادری نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے سولر پاور فریم ورک میں بڑی تبدیلیوں سے بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کے اضافی اخراجات کا بوجھ پڑے گا اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچے گا۔
بزنس مین پینل پروگریسو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت موجودہ ”یونٹ کے بدلے یونٹ ”نیٹ میٹرنگ سسٹم کو ختم کر کے نیٹ بلنگ’ نظام رائج کیا جائے گا۔
مجوزہ قواعد کے تحت صارفین اب نیشنل گرڈ کو فراہم کردہ بجلی کو اپنے استعمال شدہ یونٹس کے برابر ایڈجسٹ (آف سیٹ) نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بجائے چھتوں پر لگے سولر سسٹم سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جبکہ صارفین گرڈ سے 50 روپے فی یونٹ تک کی قیمت پر بجلی خریدنا جاری رکھیں گے۔
ثاقب مگوں نے کہا کہ خرید و فروخت کے نرخوں میں یہ بڑا فرق سولر سسٹم پر لگائی گئی رقم کی واپسی (پے بیک پیریڈ) کے دورانیے کو کافی حد تک بڑھا دے گا اور ان گھرانوں و کاروباروں کو مالی نقصان پہنچائے گا جو پہلے ہی سولر سسٹم لگا چکے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے اگر صارف ایک یونٹ گرڈ کو دیتا تھا تو وہ ایک یونٹ کے بدلے ہی ایڈجسٹ ہوتا تھا لیکن اب 30 دن بعد تصفیہ پیسوں کی بنیاد پر ہوگا، جس میں خرید و فروخت کی قیمتوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہوگا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہزاروں گھرانوں نے بجلی کے مہنگے ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگائی یا بینکوں سے قرض لے کر سولر سسٹم نصب کیے، یہ پالیسی ان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوگی۔ مزید برآں کمرشل سیکٹر کو دہری مار پڑے گی،انہیں گرڈ کی بجلی کے لیے مہنگا ٹیرف ادا کرنا ہوگا جبکہ وہ اپنی اضافی بجلی معمولی قیمت پر فروخت کریں گے۔ آپریشنل اخراجات میں اس اضافے کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر پڑے گا جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
چیئرمین نے خبردار کیا کہ صنعتی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوگا، جس سے پیداواری اخراجات بڑھیں گے، برآمدی مسابقت کم ہوگی اور ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ صارفین کو عارضی تحفظ مل سکتا ہے، لیکن پالیسی کے گرد غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گی۔
انہوں نے نیپرا کو خریداری کے نرخوں پر نظرثانی کرنے اور سہ ماہی جائزے لینے کے مجوزہ اختیار پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بار بار کی تبدیلیاں پالیسی کے تسلسل کو ختم کر دیں گی۔
انہوں نے ان مجوزہ قواعد کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز خاص طور پر صنعت و تجارت کے نمائندوں سے مشاورت کر کے ایک متوازن پالیسی بنائے جو صارفین کا تحفظ بھی کرے اور پائیدار معاشی ترقی کو بھی فروغ دے۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے حوالے سے فوری طور پر نظرثانی کی درخواست دائر کرے، تاکہ موجودہ معاہدوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ پاور ڈویژن ایسی جامع حکمت عملی مرتب کرے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا بوجھ ان 3 کروڑ 76 لاکھ صارفین پر نہ پڑے جو نیشنل گرڈ کی بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔

























Comments