وزارتِ خزانہ نے جولائی تا دسمبر 2025-26 کے مجموعی مالیاتی آپریشنز (وفاقی اور صوبائی) کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) کے دوران جاری اخراجات میں پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ششماہی بنیادوں پر 4 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہے جو پہلے تین ماہ میں 1.38 ٹریلین روپے تھیں اور ششماہی کے اختتام تک بڑھ کر 3.56 ٹریلین روپے ہو گئیں۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بینکوں سے مقامی قرضوں کے حصول میں کمی دیکھی گئی (جو منفی 2.192 ٹریلین روپے سے بڑھ کر منفی 325.4 ارب روپے ہو گئے) جبکہ نان بینکنگ ذرائع (خصوصاً سیونگ سینٹرز) سے حاصل کردہ قرضے پہلی سہ ماہی میں مثبت 112 ارب روپے تھے جو جولائی تا دسمبر کے عرصے میں منفی 250.4 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔
یہ منفی رجحان زندگی گزارنے کی بلند لاگت (مہنگائی) کے باعث بچتوں میں کمی اور گزشتہ 5 سالوں سے نجی شعبے کی جانب سے اجرتوں میں اضافہ نہ کر پانے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
جولائی تا دسمبر دفاعی اخراجات 447.487 ارب روپے سے بڑھ کر 1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کے باعث بڑھتے ہوئے آپریشنل (تزویراتی) اخراجات کے پیشِ نظر یہ اضافہ قابلِ فہم ہے۔
قرض لینے کی لاگت کو نکال کر پرائمری بیلنس پہلے چھ ماہ کے دوران 3.497 ٹریلین روپے سے بہتر ہو کر 4.106 ٹریلین روپے ہوگیا لیکن بجٹ کا توازن جو جولائی تا ستمبر 2.119 ٹریلین روپے تھا، دسمبر 2025 کے اختتام تک کم ہو کر صرف 541.882 ارب روپے رہ گیا۔ اگرچہ فیصد کے لحاظ سے خسارہ 1.6 فیصد سے کم ہو کر 0.4 فیصد رہ گیا ہے تاہم اس کمی کی بنیاد 129,567 ارب روپے کی تخمینی جی ڈی پی پر رکھی گئی ہے۔
جی ڈی پی کے تخمینوں کا فی الوقت آئی ایم ایف کی جاری تکنیکی معاونت کے تحت جائزہ لیا جارہا ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ان شعبوں کے دستیاب بنیادی ڈیٹا میں اہم خامیاں باقی ہیں جو جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل ہیں۔
ترقیاتی اخراجات اور نیٹ لینڈنگ (خالص قرضہ جات) جولائی تا ستمبر 2025 کے 295 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی تا دسمبر 2025 میں 963.869 ارب روپے تک پہنچ گئے، یہ اضافہ ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے بجائے نیٹ لینڈنگ کی زیادہ نشاندہی کرتا ہے کیونکہ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 356 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی گئی تھی جبکہ اصل اخراجات صرف 210 ارب روپے رہے جو کہ فنڈز کی اصل فراہمی میں 40 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جمع کردہ ٹیکس جولائی تا ستمبر کے 2.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کر جولائی تا دسمبر 2025 میں 6.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جو ایک سکڑتی ہوئی مالیاتی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے جس کے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، دسمبر 2025 کے اختتام تک جاری اخراجات میں ہونے والا اضافہ اس سے بھی زیادہ ہے جو بزنس ریکارڈر کی اس تجویز کو تقویت دیتا ہے کہ قلیل مدت میں ٹیکس وصولی بڑھانے کے بجائے جاری اخراجات کو کم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ نان ٹیکس وصولیوں میں سب سے بڑا اضافہ پٹرولیم لیوی کی مد میں دیکھا گیا جو جولائی تا ستمبر کے 371.6 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی تا دسمبر میں 822.927 ارب روپے ہو گیا یہ وہ اضافہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ نیشنل سیونگ سینٹرز میں عام عوام کی بچتوں کی عکاسی کرنے والے غیر بینکنگ قرضوں میں کمی کیوں آئی۔
صوبوں نے اپنی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا ہے جو 268.9 ارب روپے سے بڑھ کر 568.5 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ تاہم یہ اضافہ زیادہ تر خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں ہوا جو پہلی سہ ماہی کے 146.7 ارب روپے کے مقابلے میں پہلی ششماہی کے اختتام پر 329 ارب روپے رہا، نہ کہ بڑے جاگیرداروں پر زرعی ٹیکس اور ریئل اسٹیٹ ٹیکس سے، جو وہ دو بڑے ذرائع تھے جن کی آئی ایم ایف نے توقع کی تھی تاکہ صوبوں کی اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ وفاقی حکومت سے صوبوں کو منتقل کیے جانے والے فنڈز بھی دسمبر کے اختتام تک دوگنا ہو کر 1.77 ٹریلین روپے سے 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو صوبائی اخراجات میں نمایاں اضافے کی بڑی وجہ بنے۔
اعداد و شمار کا فرق دوگنا ہو گیا ہے جو منفی 261 ارب روپے سے بڑھ کر منفی 413 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ صوبوں کے ڈیٹا میں اس فرق میں کمی دیکھی گئی جو منفی 354.7 ارب روپے سے کم ہو کر منفی 341.8 ارب روپے رہ گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے درآمدی ڈیٹا میں کم از کم 11 ارب ڈالر کے تفاوت کی نشاندہی بھی کی ہے جس کے لیے ایک جامع جائزے کی ضرورت ہے۔ ان خامیوں کو رواں مالی سال کی تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments