BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.53 Increased By ▲ 0.33 (1.31%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.57 Increased By ▲ 2.60 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.70 Increased By ▲ 1.32 (0.62%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 322.70 Increased By ▲ 2.74 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 229.67 Increased By ▲ 1.49 (0.65%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.73 Increased By ▲ 0.55 (0.55%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.68 Increased By ▲ 0.40 (4.83%)
TPLP 8.73 Increased By ▲ 0.51 (6.2%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
رائے

خطرات ہی خطرات

شائع February 7, 2026 اپ ڈیٹ February 7, 2026 04:17pm

گل پلازہ میں لگنے والی حالیہ آگ نے مجھے ان دیگر خطرات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جن کا عام عوام کو روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم اکثر یہ محسوس ہی نہیں کر پاتے کہ شہر کے مختلف حصوں میں سفر کے دوران ہم المیے کے کتنے قریب ہوتے ہیں۔ اس میٹروپولیٹن شہر میں روزمرہ کی نقل و حرکت بعض اوقات یوں محسوس ہوتی ہے جیسے انسان اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر چل رہا ہو۔

میرے ذہن میں سب سے پہلے جو خطرہ آیا وہ گیس سلنڈرز کی فروخت اور کرایہ پر دستیابی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ گیس لائنوں کے ذریعے فراہمی کم ہونے کے باعث گیس سلنڈرز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، جو چیز کبھی صرف نچلے متوسط طبقے کی ضرورت سمجھی جاتی تھی، اب اعلیٰ طبقہ بھی اسی پر انحصار کرنے لگا ہے۔ اس بڑھتی طلب نے ایسی دکانوں کی بھرمار کردی ہے جو گیس سلنڈر فراہم کرتی ہیں لیکن ان کی اسٹوریج (ذخیرہ اندوزی)، تقسیم اور استعمال کا طریقہ کار انتہائی ناقص ہے

گیس سلنڈرز کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے قانونی تقاضے واضح ہیں اور اب یہ آپ کی صوابدید پر ہے کہ آپ خود اندازہ لگائیں کہ ان میں سے کتنے اصولوں پر حقیقت میں عمل کیا جاتا ہے۔ قانونی ہدایات کے مطابق گیس سلنڈرز کو سیدھا (کھڑا) رکھنا ضروری ہے، انہیں زنجیروں یا پٹیوں کے ذریعے مضبوطی سے باندھ کر محفوظ کیا جائے اور کسی ایسی خشک اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے جس کی واضح شناخت ہو سکے، نیز یہ جگہ تپش، براہِ راست سورج کی روشنی اور آگ پکڑنے والے ذرائع سے دور ہونی چاہیے۔

بھرے ہوئے اور خالی سلنڈروں کو الگ الگ جگہ پر رکھنا چاہیے۔ آتش گیر گیسوں کو کسی بھی جلنے والے مادے سے کم از کم 20 فٹ (6 میٹر) دور رکھا جانا چاہیے، یا پھر ان کے درمیان 5 فٹ بلند ’فائر ریٹیڈ‘ (آگ روکنے والی) دیوار یا رکاوٹ کا ہونا لازمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی بات پر شاید ہی کبھی عمل کیا جاتا ہو، عام طور پر سلنڈروں کا بے ترتیبی سے ڈھیر لگا دیا جاتا ہے، انہیں انتہائی لاپرواہی سے سنبھالا جاتا ہے اور انہیں بھرنے والا شخص ان احتیاطی تدابیر سے مکمل طور پر ناواقف ہوتا ہے جو اس کام کے لیے ضروری ہیں۔

نہ صرف ان اسٹوریج کے طریقوں کو نظر انداز کرنے اور گیس سلنڈروں کی لاپرواہ ہینڈلنگ کے نتیجے میں ماضی میں دھماکے ہوئے ہیں بلکہ قیمتی جانوں کا ضیاع اور املاک کی تباہی بھی ہوئی ہے۔

دسمبر 2023 میں کراچی کے ایک گیس اسٹیشن پر سلنڈر اتارنے کے دوران ہونے والے دھماکے میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور کئی دوسرے شدید زخمی ہوئے تھے۔ ایک اور انتہائی المناک اور حالیہ واقعہ جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے بھر میں شہ سرخیاں بنائیں، اسی سال جنوری میں پیش آیا جو کہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں گیس سلنڈر پھٹنے کے نتیجے میں دولہا اور دلہن سمیت 8 افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

یہ واقعہ اس قدر المناک اور دل دہلا دینے والا تھا کہ موجودہ حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات نے بھی گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ صدرِ پاکستان نے بھی اس واقعے کو المیہ اور انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ گیس سلنڈروں کی تیاری، معیار اور استعمال سے متعلق حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

درحقیقت مسئلے کی جڑ یہی ہے۔ قوانین چاہے جتنے بھی بنا لیے جائیں، اگر ان پر عملدرآمد نہ ہو تو وہ محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں اور ایسے ہی سانحات کو جنم دیتے رہتے ہیں جو معصوم جانیں نگل لیتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے اور اعلیٰ حکام کی واضح ہدایات کے باوجود گیس سلنڈرز کی فروخت اور ذخیرہ بدستور بغیر مطلوبہ حفاظتی اقدامات کے جاری ہے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ گل پلازہ کے ہولناک سانحے کے بعد دیگر تمام شاپنگ سینٹرز کا فوری آڈٹ کیا جائے گا۔ اس آڈٹ میں خاص طور پر ہنگامی اخراج کے راستوں ، آتش گیر مواد کو ذخیرہ کرنے کی جگہوں اور آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی اور ان کے مقام کی واضح نشاندہی کو نمایاں کیا جانا تھا، یعنی یہ دیکھنا کہ آیا ایسا کوئی سامان موجود ہے بھی یا نہیں اور کراچی کے تمام شاپنگ پلازوں میں فوری طور پر ایسے آلات نصب کیے جانے تھے۔

اب تک سارا زور ان دیگر چیزوں پر دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں آگ لگنے کے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی، اور خدا نہ کرے ہم مستقبل میں کسی حادثے کو روکنے کی کوشش کیے بغیر دوبارہ کسی دوسرے المیے پر بحث کر رہے ہوں گے۔

میں اس ہولناک سانحے کے بعد بھی پرہجوم مقامات پر مستقبل میں آگ لگنے کے ممکنہ خدشات کے باوجود اس قدر پُرسکون رویے پر حیران ہوں جبکہ ان شاپنگ پلازوں کے حفاظتی معیارات میں بھی کوئی ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں جو اب تک کسی ایسے حادثے سے بچے ہوئے ہیں۔

گیس سلنڈروں کی غیر محتاط فروخت اور ناقص حفاظتی انتظامات والے شاپنگ سینٹرز کے درمیان ہم ایک خطرناک زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پرخطر اور پیچیدہ صورتحال کے بیچ وہ آدمی بھی ہے جو روزانہ میرے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے پوری قوت سے گیس سلنڈر ٹھیک کروانے کی آوازیں لگاتا ہے۔

مجھے اس کی قابلیت کے بارے میں تو کچھ علم نہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ بہت سی فنون کا ماہر ہے۔ وہ سلائی مشینیں، گیس کے چولہے اور بہت سے دوسرے پیچیدہ بلکہ خطرناک گھریلو آلات بھی ٹھیک کرتا ہے۔ بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا کام جانتا ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف