سری لنکا کی پاکستان سے بھارت کے میچ کے بائیکاٹ پر نظرثانی کی اپیل
- پاکستان نے 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا ہے
سری لنکا کرکٹ بورڈ نے جمعرات کو پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنے پہلے راؤنڈ کے میچ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
پاکستان نے 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا ہے، تاکہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے، جو بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کے بعد اس ٹورنامنٹ سے خارج ہو گیا تھا۔ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ ایک دہائی سے باہمی کرکٹ نہیں کھیلی اور دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں مد مقابل آتی ہیں۔
سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا کہ بائیکاٹ سے نہ صرف مالی نقصان ہوگا بلکہ جزیرے کی سیاحت کی صنعت کو بھی نقصان پہنچے گا، جو 2022 کے معاشی بحران سے ابھی تک بحالی کے مراحل میں ہے۔ بورڈ نے کہا کہ کسی بھی عدم شرکت کے نتائج وسیع پیمانے پر ہوں گے، جن میں سری لنکا کرکٹ کے لیے مالی خطرات اور متوقع سیاحتی آمدنی کا نقصان شامل ہے۔
سری لنکا نے یاد دلایا کہ اس نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تاکہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے اور بین الاقوامی میچز کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے، جب دیگر ممالک سیکیورٹی خدشات کے سبب پاکستان میں کھیلنے سے گریزاں تھے۔
سری لنکا کرکٹ نے پاکستان سے اپیل کی کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ استثنائی حالات، ہمارے دونوں بورڈز کے درمیان دیرپا تعلقات اور کرکٹ کے کھیل کے وسیع مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں شرکت پر غور کریں۔
یہ معاملہ عالمی ٹی20 ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور سیاست کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے فیصلے سے نہ صرف میچ کے مالی پہلو متاثر ہوں گے بلکہ شائقین اور سیاحتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
سری لنکا کرکٹ بورڈ کی اپیل میں زور دیا گیا کہ کھیل کے مفادات، شائقین کی توقعات اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو ترجیح دی جائے تاکہ میچ باقاعدہ انعقاد کے ساتھ مکمل ہو سکے اور عالمی کرکٹ کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

























Comments