BR100 Increased By (0.02%)
BR30 Increased By (0.06%)
KSE100 Decreased By (-0%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 60.20 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 26.92 Increased By ▲ 0.11 (0.41%)
BOP 35.20 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.61%)
DFML 19.78 Decreased By ▼ -0.06 (-0.3%)
DGKC 218.15 Increased By ▲ 1.56 (0.72%)
FABL 97.01 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 56.61 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.11 (-0.61%)
GGL 23.71 Decreased By ▼ -0.30 (-1.25%)
HBL 294.97 Decreased By ▼ -0.01 (-0%)
HUBC 233.05 Increased By ▲ 1.07 (0.46%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.09 (-0.8%)
KEL 8.39 Increased By ▲ 0.19 (2.32%)
LOTCHEM 28.32 Decreased By ▼ -0.23 (-0.81%)
MLCF 101.06 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
OGDC 337.53 Increased By ▲ 3.28 (0.98%)
PAEL 43.32 Increased By ▲ 0.24 (0.56%)
PIBTL 17.82 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
PIOC 274.99 Increased By ▲ 0.28 (0.1%)
PPL 244.79 Increased By ▲ 2.16 (0.89%)
PRL 35.71 Decreased By ▼ -0.16 (-0.45%)
SNGP 125.25 Increased By ▲ 2.39 (1.95%)
SSGC 32.98 Increased By ▲ 0.75 (2.33%)
TELE 9.04 Decreased By ▼ -0.07 (-0.77%)
TPLP 10.85 Decreased By ▼ -0.10 (-0.91%)
TRG 65.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.08%)
UNITY 11.18 Decreased By ▼ -0.09 (-0.8%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
Perspectives

ایک نسل میں غربت سے طاقت تک: پاکستان چین سے کیا سیکھ سکتا ہے

  • پاکستان میں ٹیلنٹ یا عزائم کی کمی نہیں، کمی ایک ایسے نظام کی ہے جو محنت کا قابلِ پیش گوئی اور منصفانہ صلہ دے
شائع January 30, 2026 اپ ڈیٹ January 30, 2026 05:38pm

اگر آپ 1978 میں شینزین میں کھڑے ہوتے تو آپ کے سامنے چاولوں کے کھیت، ماہی گیری کی کشتیاں اور کچی سڑکیں افق تک پھیلی دکھائی دیتیں۔ آج اسی مقام پر کھڑے ہوں تو شیشے کے بلند ٹاورز، تیز رفتار ٹرینیں اور دنیا کے طاقتور ترین ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام نظر آتے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ تو قسمت کا نتیجہ تھی اور نہ ہی غیر ملکی امداد کا۔ یہ دانستہ فیصلوں، مسلسل عمل اور ایک واضح وژن کا ثمر تھی، جس کی قیادت ایک شخص، ڈینگ ژیاؤپنگ، نے کی۔

ڈینگ کو ایک ایسی قوم ورثے میں ملی جو سیاسی، معاشی اور نفسیاتی طور پر نڈھال تھی۔ ثقافتی انقلاب نے اعتماد کو چکنا چور کر دیا تھا، ادارے مفلوج ہو چکے تھے اور عوام نعروں سے بیزار تھے۔ چین کو مزید نظریات کی نہیں، بلکہ خوراک، وقار اور امید کی ضرورت تھی۔ ڈینگ نے ایک سادہ مگر انقلابی حقیقت کو سمجھا: نظام عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں، عوام نظام کی خدمت کے لیے نہیں۔ ان کا مشہور قول—“پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا عبور کرنا”—اسی عملی اور تدریجی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

اندرونی اصلاحات، دنیا کے لیے دروازے کھولنا

ڈینگ کی حکمتِ عملی دو باہم مربوط مراحل میں سامنے آئی۔ پہلا مرحلہ اندرونی اصلاحات کا تھا۔ کسانوں کو ریاستی کوٹے پورے کرنے کے بعد اضافی فصل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ ٹاؤن شپ اور دیہی انٹرپرائزز ابھر کر سامنے آئے۔ نجی ورکشاپس—جو کبھی قابلِ مذمت سمجھی جاتی تھیں—پہلے برداشت کی گئیں اور پھر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ کئی دہائیوں بعد پہلی بار محنت کا براہِ راست صلہ ملنے لگا۔

دوسرا مرحلہ دنیا کے لیے دروازے کھولنے کا تھا۔ چین نے اسپیشل اکنامک زونز ( ایس ای زیڈز) قائم کیے—محدود جغرافیائی تجربات جہاں غیر ملکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے طریقوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ ان میں سب سے نمایاں شینزین تھا، ایک پرسکون سرحدی قصبہ جسے جان بوجھ کر اس لیے چنا گیا کہ اس کے پاس کھونے کو بہت کم تھا۔ شینزین پالیسی انوویشن کی تجربہ گاہ بن گیا: ٹیکس مراعات، ایکسپورٹ پر مبنی مینوفیکچرنگ، لچکدار لیبر قوانین اور کم سے کم بیوروکریٹک رکاوٹیں۔

ذہنی تبدیلی جس نے سب کچھ بدل دیا

شاید ڈینگ کا سب سے انقلابی اقدام نفسیاتی تھا۔ جب انہوں نے کہا کہ ”امیر ہونا قابلِ فخر ہے“ تو انہوں نے امنگ کے بارے میں صدیوں پرانی اخلاقی بدگمانی توڑ دی۔ دولت اب شرمندگی نہیں رہی بلکہ شراکت کی علامت بن گئی۔ راشن کوپن کی جگہ مارکیٹس نے لے لی۔ نعروں کی جگہ مراعات نے لے لی۔ لوگ اجازت کے منتظر رہنا چھوڑ کر خود تعمیر کرنے لگے۔

پاکستان چین کے سیاسی ماڈل کی نہ تو نقل کر سکتا ہے اور نہ ہی کرنی چاہیے۔ تاہم وہ چین کی عملی سوچ اور حقیقت پسندی کو ضرور اپنا سکتا ہے۔

چین نے محض اپنی معیشت نہیں کھولی، اس نے اپنی تخیل کی سرحدیں بھی وسیع کیں۔ ڈینگ سے پہلے ریاست لوگوں کو نظام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی تھی۔ ڈینگ کے بعد نظام نے خود کو لوگوں کے مطابق ڈھال لیا۔ اسی تبدیلی نے چین میں امکانات کے تصور کو ازسرِنو ترتیب دیا اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غربت میں کمی کی کوشش کو جنم دیا۔

پاکستان کا لمحۂ انتخاب

آج کا پاکستان 1978 کا چین نہیں، مگر مماثلتیں نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔ نوجوان آبادی، اسٹریٹجک جغرافیہ، ادائیگیوں کے توازن کا مستقل بحران، پالیسیوں کا عدم تسلسل اور ریاست و شہریوں کے درمیان گہرا عدم اعتماد۔ اُس وقت کے چین کی طرح، پاکستان میں بھی ٹیلنٹ یا عزائم کی کمی نہیں۔ کمی ایک ایسے نظام کی ہے جو محنت کا باقاعدہ اور قابلِ پیش گوئی صلہ دے۔

چین سے حاصل ہونے والا سب سے اہم سبق اسپیشل اکنامک زونز( ایس ای زیڈز)، انفرااسٹرکچر یا ایکسپورٹس نہیں، بلکہ ذہنیت ہے۔ ڈینگ نے ایک نہایت بے رحم مگر سادہ سوال پوچھا: آخر کار کام کیا کرتا ہے؟ پاکستان کو بھی یہی سوال پوچھنا ہوگا—نظریاتی دفاع کے بغیر، ماضی کی نوستالجیا کے بغیر، اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے خوف کے بغیر۔

پاکستان میں ”پالیسی کے طور پر حقیقت پسندی“ کی صورت کیا ہو سکتی ہے

1۔ ترقی کو اعلیٰ ترین قومی ہدف بنانا

چین نے پوری بیوروکریسی کو ایک ہی پیمانے کے گرد منظم کیا: “اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی”۔ ترقی اور تقرریاں نتائج سے مشروط تھیں۔ پاکستان میں ریاستی مشینری بٹی ہوئی ہے؛ سکیورٹی، سیاست اور معیشت اکثر مختلف سمتوں میں کھنچتی ہیں۔ ایک واضح قومی اتفاقِ رائے درکار ہے: “روزگار کی تخلیق اور ایکسپورٹس اولین ترجیح ہیں“، باقی ہر چیز اسی ہدف کی معاون ہو۔

2۔ زراعت میں اصلاحات—آخر میں نہیں، ابتدا میں

چین نے کسانوں سے آغاز کیا کیونکہ زیادہ تر غریب وہیں تھے۔ پاکستان میں زراعت ایک تہائی سے زائد افرادی قوت کو روزگار دیتی ہے، مگر کم پیداوار کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ کسانوں کو حقیقی پرائس ڈسکوری، جدید اسٹوریج،کنٹریکٹ فارمنگ اور ایگرو پروسیسنگ کی سہولت دینا دیہی آمدن تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔ اس کے لیے روایت ترک کرنے کی نہیں، بلکہ اُن بگاڑوں کے خاتمے کی ضرورت ہے جو کارکردگی کو سزا دیتے ہیں۔

3۔ حقیقی اسیپشل اکنامک زونز، رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس نہیں

پاکستان کے پاس کاغذوں میں ایس ای زیڈ موجود ہیں، مگر فعال زونز کی کمی ہے۔ چین کے زونز اس لیے کامیاب ہوئے کہ وہ خودمختار، سادہ مگر مؤثر، اور بے رحمی سے ایکسپورٹس پر مرکوز تھے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ہے:

· قانونی اختیار کے ساتھ ون ونڈو اپروول · بجلی اور لاجسٹکس کی یقینی فراہمی
· 15 سے 20 سال کے لیے مستحکم ٹیکس پالیسی
· سیاسی مداخلت سے محفوظ پیشہ ورانہ زون مینجمنٹ

ایس ای زیڈزکو قومی تجربات سمجھا جائے۔ جو کامیاب ہوں، انہیں دہرایا جائے۔ جو ناکام ہوں، انہیں بغیر کسی شور شرابے کے بند کر دیا جائے۔

دروازہ کھولو—پھر راستے سے ہٹ جاؤ

چین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا خیرمقدم نجات دہندہ کے طور پر نہیں، بلکہ استاد کے طور پر کیا۔ کنٹرول کی فکر میں الجھنے کے بجائے ثانوی اثرات پر توجہ دی گئی: مہارتیں، سپلائی چینز اور ایکسپورٹ ڈسپلن۔ جوائنٹ وینچرز—خصوصاً الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل اپ گریڈیشن، ایگری بزنس اور قابلِ تجدید توانائی میں—پاکستان کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

اتنا ہی اہم یہ ہے کہ قواعد طے ہونے کے بعد ریاست کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ پالیسی میں عدم استحکام سرمایہ کاری کے لیے زہر ہے۔ ڈینگ سمجھتے تھے کہ اعتماد سرمایہ سے بھی تیزی سے بڑھتا ہے۔

ریاست کے کردار کی ازسرِنو تعریف

چین کی ریاست مضبوط تھی، مگر گھٹن پیدا کرنے والی نہیں۔ اس نے سمت طے کی، مائیکرو مینجمنٹ نہیں کیا۔ پاکستان کی حکومت کو آپریٹر( سسٹم کو خود چلانے والے) سے اینیبلر(سہولت کار یا معاون) بننا ہوگا—معیارات مقرر کرنا، معاہدوں کا نفاذ یقینی بنانا، انسانی سرمائے (لوگوں کی مہارت اور قابلیت) میں سرمایہ کاری کرنا اور باقی کام کاروباری طبقے پر چھوڑ دینا۔

اس کا مطلب سول سروس کے انسنٹیو سٹرکچر یعنی ترغیبی نظام میں اصلاح بھی ہے۔ چین میں مقامی حکام کو فیکٹریاں، سڑکیں اور روزگار پیدا کرنے پر انعام ملتا تھا۔ پاکستان میں کامیابی اکثر رسک (خطرہ یا ممکنہ نقصان کا خدشہ) سے بچنے کو سمجھا جاتا ہے—اس ثقافت کو بدلنا ہوگا۔

امنگ کے گرد نیا سماجی معاہدہ

شاید سب سے مشکل سبق ثقافتی ہے۔ ڈینگ نے امنگ کو جائز قرار دیا۔ پاکستان کو بھی اسی نوعیت کی ذہنی ری سیٹ درکار ہے۔ پیداوار، ایکسپورٹس اور جدت(اختراع) کے ذریعے پیدا کی گئی دولت کو سماجی احترام ملنا چاہیے، اخلاقی شبہ نہیں۔ پیغام سادہ ہونا چاہیے: ”اگر آپ روزگار پیدا کرتے ہیں، ڈالر کماتے ہیں اور قانون کی پابندی کرتے ہیں تو ریاست آپ کے ساتھ ہے۔“

اس کا مطلب سماجی انصاف ترک کرنا نہیں۔ چین نے ترقی کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر میں بتدریج توسیع کی۔ ترقی نے وسائل پیدا کیے، پالیسی نے تقسیم کا تعین کیا۔ پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے—اور کرنا چاہیے۔

چین کی نقل نہیں، اس سے سیکھنا

پاکستان چین کے سیاسی ماڈل کی نہ تو نقل کر سکتا ہے اور نہ ہی کرنی چاہیے۔ مگر وہ چین کی حقیقت پسندی کو ضرور اپنا سکتا ہے۔ اصلاحات کے لیے کمال نہیں، حرکت درکار ہوتی ہے۔ ڈینگ کا کہنا تھا کہ اصلاحات “پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا عبور کرنے” کے مترادف ہونی چاہئیں۔

پاکستان دہائیوں سے دریا کے کنارے کھڑا پانی پر بحث کر رہا ہے۔ چین کی ریفارم اینڈ اوپننگ اپ ( اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی) کی اصل میراث فلک بوس عمارتیں یا تجارتی سرپلس نہیں، بلکہ وہ جرات ہے جو ناکارہ چیزوں کو ترک کرنے اور ممکنہ حل آزمانے کی عاجزی دیتی ہے۔ اگر پاکستان اس روح کو اپنا لے تو ایک نسل اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کافی ہے۔ جیسا کہ شی جن پنگ نے کہا کہ ”ہمیں ایسی چیزیں کرنے کے لیے اسٹریٹجک صبر رکھنا چاہیے جو مستقبل کو فائدہ دیں، چاہے فوری فائدہ نہ دیں“ اور ”خوشی محنت سے آتی ہے اور ترقی جدوجہد پر منحصر ہے۔“

Comments

200 حروف